شام میں دو بسوں کے درمیان خوفناک تصادم، 35 افراد جاں بحق، 30 زخمی

شام (قدرت روزنامہ)شام میں دو مسافر بسوں کے درمیان ہونے والے ہولناک ٹریفک حادثے میں کم از کم 35 افراد جاں بحق جبکہ30 دیگر زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ السخنہ اور تاریخی شہر پالمیرا کے درمیان پیش آیا، جہاں تیز رفتاری یا دیگر ممکنہ وجوہات کے باعث دونوں بسیں آپس میں ٹکرا گئیں۔

شامی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی ایک بس میں انٹرنل سیکیورٹی فورسز کے اہلکار سوار تھے، جبکہ دوسری بس عام شہریوں کو لے کر جا رہی تھی۔ تصادم کے بعد جائے وقوع پر شدید افراتفری پھیل گئی اور متعدد افراد بسوں میں پھنس گئے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسیں فوری طور پر حادثے کی جگہ روانہ کی گئیں، جنہوں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے سانا (SANA)کے مطابق زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر متعدد فوجی ہیلی کاپٹر بھی جائے حادثہ پر بھیجے گئے، جن کے ذریعے شدید زخمی افراد کوحمص ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ انہیں فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دیر الزور اور دمشق کو ملانے والی چار سو کلومیٹر سے زائد طویل شاہراہ شام کی اہم ترین شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے، تاہم کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی کے باعث ملک کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سڑکوں کی حالت بھی انتہائی خراب ہو چکی ہے۔

شامی حکام اس سے قبل بھی سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں کمزوری کو مہلک حادثات کی بڑی وجوہات قرار دے چکے ہیں۔

گزشتہ برس شامی وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ایمرجنسی رسپانس ’’رائد الصالح‘‘ نے بتایا تھا کہ صرف جنوری سے ستمبر کے اختتام تک ملک بھر میں 2 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات پیش آئے، جبکہ سڑک حادثات شام میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

امریکا میں ٹیک آف کے دوران خوفناک حادثہ، جہاز کا انجن بند، ایک شخص ہلاک

تازہ حادثے نے ایک بار پھر شام میں سڑکوں کی خراب حالت، ٹریفک کے ناقص نظام اور عوامی تحفظ کے اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert