سائبرسیکیورٹی نے مفت فیس بک بلیو ٹک کی خبروں پر کیوں خبردار کیا تھا؟

نیویارک(قدرت روزنامہ)فیس بک صارفین کو مفت ’’بلیو ویریفکیشن بیج‘‘ دینے کے نام پر ایک خطرناک سائبر فراڈ مہم سامنے آئی ہے، جس کے بارے میں سائبرسیکیورٹی ماہرین نے 3 ماہ قبل ہی خبردار کردیا تھا۔

بین الاقوامی سیکیورٹی کمپنی Guard.io کی مئی میں جاری رپورٹ میں اس مہم کو “AccountDumpling” کا نام دیا گیا تھا جسے مبینہ طور پر ویتنام سے تعلق رکھنے والا سائبر جرائم پیشہ گروہ چلا رہا ہے۔

کمپنی کے سیکیورٹی محقق شیکڈ چن (Shaked Chen) کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فیس بک صارفین، پیج ایڈمنز اور کاروباری اکاؤنٹس چلانے والوں کو بڑی تعداد میں جعلی ای میلز موصول ہوئیں، جن کا مقصد ان کے اکاؤنٹس پر قبضہ کرنا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور مختلف طریقوں سے صارفین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں، تاہم ان کا اصل ہدف ایسے فیس بک اکاؤنٹس ہوتے ہیں جن کی مالی یا کاروباری اہمیت زیادہ ہو۔ ماہرین کے مطابق چوری شدہ اکاؤنٹس بعد ازاں انہی مجرموں کے زیر انتظام آن لائن پلیٹ فارمز پر فروخت بھی کیے جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس بار سائبر مجرموں نے گوگل کیAppSheetسروس کا ناجائز استعمال کیا، جو عام طور پر کاروباری ورک فلو اور نوٹیفکیشن بھیجنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ ای میلز گوگل کے مستند نظام سے بھیجی جاتی ہیں، اس لیے وہ بظاہر حقیقی معلوم ہوتی ہیں اور صارفین آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستند پلیٹ فارم سے بھیجی گئی ای میل کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس میں موجود پیغام یا لنک بھی محفوظ ہے۔ اسی غلط فہمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آور جعلی پیغامات بھیجتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض ای میلز میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صارف کا فیس بک اکاؤنٹ بند ہونے والا ہے یا اس پر کاپی رائٹ کی شکایت درج ہوئی ہے، جبکہ کچھ ای میلز میں “مفت فیس بک بلیو بیج حاصل کریں” کا لالچ دیا جاتا ہے۔

ان جعلی صفحات پر صارفین سے پہلے فرضی کیپچا (CAPTCHA) مکمل کروایا جاتا ہے، پھر رابطے کی معلومات، پاس ورڈ اور بعد ازاں ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) کے کوڈز بھی طلب کیے جاتے ہیں۔ جیسے ہی صارف یہ معلومات فراہم کرتا ہے، اس کا اکاؤنٹ حملہ آوروں کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔

سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے ای میل فلٹرز کو دھوکا دینے کے لیے جدید تکنیکیں بھی استعمال کیں، جن میں پوشیدہ یونیکوڈ حروف، الفاظ کو جان بوجھ کر توڑ کر لکھنا اور ایسے خصوصی کریکٹرز شامل ہیں جو اصل برانڈنگ سے تقریباً یکساں دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرین نے فیس بک صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی ای میل میں موجود لنک پر کلک کرنے سے پہلے اس کی مکمل جانچ کریں، اپنا پاس ورڈ یا 2FA کوڈ کسی غیر مصدقہ ویب سائٹ پر ہرگز درج نہ کریں، اور صرف میٹا کی سرکاری ویب سائٹ یا ایپ کے ذریعے ہی اکاؤنٹ سے متعلق کارروائیاں انجام دیں۔ ساتھ ہی مشتبہ ای میلز کو فوری طور پر نظر انداز یا رپورٹ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert