’ن لیگ والے فارم 47 کے بھی طعنے سنتے ہیں، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے طعنے علیحدہ ہیں‘

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں، مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، اگرچہ مختلف شعبوں میں اپنی کارکردگی کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی اس کے سیاسی سرمائے پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
اس حوالے سے منیب فاروق نے اپنے تجزیے میں کہا کہ مون سون بارشوں کے آغاز کے بعد سوشل میڈیا پر لاہور میں بارش کے پانی کی ویڈیوز بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں شہر کے مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے کی صورتحال دکھائی جا رہی ہے، دوسری جانب پنجاب حکومت اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ بارش کے بعد دو سے تین گھنٹوں کے اندر بیشتر علاقوں سے پانی کا نکاس کر دیا گیا تھا اور صورتحال کو جلد قابو میں لے لیا گیا۔
مہنگائی کیوجہ سے لوگوں کو اتنا غصہ ہے اتنا غصہ ہے کہ اگر آج الیکشن ہو تو ن لیگ کو لگ پتا جاۓ
حوالدار MF اپنی ہی پارٹی سے سخت نالاں pic.twitter.com/t82UU9SW9e— Waqar khan (@Waqarkhan) July 25, 2026
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں یا انتظامی اقدامات کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن جب عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان تمام اقدامات سے حاصل ہونے والا سیاسی فائدہ بڑی حد تک ختم ہو جاتا ہے، عوام براہِ راست مہنگائی کا اثر محسوس کرتے ہیں اور اس کا ردعمل بھی حکومت کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اس وقت حکمران جماعت کو سب سے بڑا چیلنج اپنے سیاسی سرمائے کو برقرار رکھنا ہے، مسلم لیگ ن کے رہنما ایک جانب انتخابی نتائج سے متعلق اپوزیشن کی جانب سے لگائے جانے والے فارم 47 کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے باعث عوامی تنقید بھی برداشت کر رہے ہیں، مہنگائی کے معاملے پر عوام کی ناراضی کا رخ زیادہ تر وفاقی حکومت کی طرف ہوتا ہے۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پیپلزپارٹی نسبتاً بہتر صورتحال میں دکھائی دیتی ہے، حالیہ گلگت بلتستان کی سیاسی کامیابی نے پارٹی کے حوصلے بلند کیے ہیں، سندھ میں 2008ء سے مسلسل حکومت کرنے کے باعث پیپلزپارٹی کو سیاسی استحکام بھی حاصل ہے، اقتدار میں موجود سیاسی قیادت کو بعض اوقات عوامی ردعمل کی شدت کا مکمل اندازہ نہیں ہو پاتا لیکن زمینی سطح پر مہنگائی کے باعث عوام میں شدید بے چینی اور غصہ پایا جاتا ہے، اگر موجودہ حالات میں عام انتخابات منعقد ہوں تو مسلم لیگ ن کو سخت سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
