آدھا پنجاب ڈبو دیا گیا، ندیم افضل چن کے پنجاب حکومت پر سنگین الزامات


لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ بارشوں نے صوبے میں انتظامی دعوؤں کی حقیقت آشکار کردی، آدھا پنجاب ڈبو کر رکھ دیا گیا ہے، ستھرا پنجاب اور سیوریج منصوبوں کے نام پر قائم کمپنیاں کس کی ہیں؟۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی تلخیاں پیدا نہیں کرنا چاہتی، تاہم عوامی مفاد کے معاملات پر سوال اٹھانا اس کی ذمہ داری ہے، ستھرا پنجاب منصوبے میں 11 کمپنیاں کام کر رہی ہیں، یہ کمپنیاں کس کی ہیں؟ گاڑیاں کس کو دی جارہی ہیں؟ اسی طرح سیوریج کے شعبے میں بھی 12 کمپنیاں سرگرم عمل ہیں، ایجنسیاں تحقیقات کریں کہ ان کمپنیوں کے مالکان کون ہیں اور انہیں کن بنیادوں پر ٹھیکے دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بعد پنجاب حکومت کی کمپنیاں پورا خطہ چلا رہی ہیں، حالیہ بارشوں کے بعد انتظامی صورتحال نے صوبائی حکومت کے تمام دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کا مقصد کسی سے محاذ آرائی نہیں بلکہ ریاست کو مزید نقصان سے بچانا ہے، ہم ریاست کو بچانے کے لیے نکلے ہیں، پیپلز پارٹی ریاست کو مزید زخمی ہونے سے بچانا چاہتی ہے، آپ 11، 12 ارب کے جہازوں پر چل کر ریاست کو زخمی نہ کریں۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے شفاف، آزاد اور غیر جانبدار انتخابی عمل پر زور دیا، انہوں نے انتخابی مہم کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، ندیم افضل چن نے الزام لگایا کہ وفاقی وزراء کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور پولنگ کے روز سرکاری مقامات پر موجودگی انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا واضح مطالبہ ہے کہ وفاقی انتظامیہ اور سرکاری مشینری کو انتخابی عمل سے مکمل طور پر دور رکھا جائے تاکہ عوام آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں، اگر انتخابات منصفانہ انداز میں کرائے گئے تو کامیابی پاکستان پیپلز پارٹی کا مقدر ہوگی پی پی رہنماء نے اپنی پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کی اندرونی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کیا کہ اگر میں مریم نواز کی جگہ ہوتا تو نواز شریف کو بعد میں خطاب کرواتا، یہ نہیں ہو سکتا کہ بیٹی بعد میں تقریر کرے اور والد پہلے خطاب کریں، آپ کہتے ہیں نواز شریف ہمارا لیڈر ہے لیکن تقریر ایسے کروا دی جیسے کسی عام ورکر سے کروائی جاتی ہے، مریم نواز اپنے والد میاں نواز شریف کو ایک عام ورکر کی طرح ڈیل کر رہی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert