نوشکی میں 10 گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کا واقعہ حکومت اور ریاستی اداروں کی کھلی ناکامی ہے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

صوبائی حکومت عوام کے جان و مال اور شاہراہوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، متاثرین کو فوری معاوضہ دیا جائے: پریس ریلیز


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں گزشتہ شب ضلع نوشکی کے علاقے پدگ کوچکی میں مسلح افراد کی جانب سے دس گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے افسوسناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صوبے میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال، ریاستی اداروں کی ناکامی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں سنگین غفلت کا ایک اور المناک مظہر قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبہ ، بالخصوص پشتون اضلاع، گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، شاہراہوں پر مسلح حملوں، بھتہ خوری، لوٹ مار اور عوامی و نجی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین واقعات کی لپیٹ میں ہیں، مگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ادارے امن کے قیام، قانون کی مؤثر عملداری اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ قومی اور بین الاضلاعی شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافر، ٹرانسپورٹرز، تاجر اور عام شہری مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں، جس کے باعث نہ صرف عوام میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے بلکہ تجارتی، کاروباری اور معاشی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نوشکی میں دس گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کا واقعہ نہ صرف متاثرہ ٹرانسپورٹرز کے لیے ایک بڑا معاشی نقصان ہے بلکہ اس کے دور رس منفی اثرات صوبے میں سرمایہ کاری، تجارت، نقل و حمل اور کاروباری اعتماد پر بھی مرتب ہوں گے۔ جب شاہراہیں غیر محفوظ ہوں، ٹرانسپورٹرز اور مسافر عدم تحفظ کا شکار ہوں اور ریاست شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو معاشی ترقی، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی اعتماد کی بحالی ممکن نہیں رہتی۔ پارٹی نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ایسے سنگین واقعات کے باوجود حکومت کی جانب سے مؤثر، مربوط اور دیرپا اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ محض مذمتی بیانات، وقتی اعلانات یا روایتی کارروائیاں عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ ریاست کی اولین آئینی اور قانونی ذمہ داری شہریوں کے جان، مال، عزت اور کاروبار کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور قانون کی بلاامتیاز عملداری کو یقینی بنانا ہے، اور اس بنیادی ذمہ داری سے غفلت کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتِ اور تمام متعلقہ سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نوشکی کے واقعے کی فوری، شفاف، غیر جانبدارانہ اور مؤثر تحقیقات کرائی جائیں، ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو بلاامتیاز گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے، متاثرہ گاڑی مالکان کو ان کے نقصانات کا فوری، منصفانہ اور مکمل معاوضہ ادا کیا جائے، اور کوئٹہ۔نوشکی۔تفتان شاہراہ سمیت صوبے کی تمام اہم قومی شاہراہوں پر مسافروں، ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر، مستقل اور قابلِ اعتماد حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ صوبے میں پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے قائم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے قانون کی بالادستی، آئین کی حکمرانی، بنیادی انسانی و جمہوری حقوق کے احترام، بروقت اور غیر جانبدارانہ انصاف، ریاستی اداروں کی مؤثر کارکردگی، عوامی اعتماد کی بحالی اور عوام دوست پالیسیوں کا اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بدامنی کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لے، امن و امان کے قیام کے لیے جامع اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرے اور ایسے عملی اقدامات کرے جن کے ذریعے صوبے کے عوام کو مستقل امن، تحفظ، استحکام اور اعتماد کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔ پریس ریلیز کے اختتام پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صوبے میں امن، قانون کی حکمرانی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، آئینی و جمہوری حقوق کے دفاع اور پائیدار سیاسی استحکام کے لیے اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی، اور عوام کے حقوق، تحفظ اور انصاف کے حصول کے لیے ہر مؤثر فورم پر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert