صوبوں کی تقسیم بچگانہ کھیل نہیں، محسن نقوی کے بیان سے نفرت کی بو آتی ہے، اصغر خان اچکزئی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان اور پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے جہاں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں سے وابستہ افراد بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں ریاست اور حکومت کو حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے شہدا اگست کی یاد میں چمن میں جلسہ عام اور کوئٹہ میں سیمینار ہوگا جس میں آل پارٹیز کے رہنما شرکت کریں گے انہوں نے یہ بات کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے صوبائی و مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر مرکزی سنئیر نائب صدر داؤد خان ایڈوکیٹ صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عبیداللہ عابد ڈپٹی ایڈیشنل سیکرٹری جاوید کاکڑ مرکزی نائب صدر سردار فرید اللہ دومڑ مرکزی جوائنٹ سیکرٹری انور خان مندوخیل مرکزی سیکرٹری رشید خان ناصر صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری عبدالباری کاکڑ صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نقیب افغان ضلعی صدر ثنااللہ کاکڑ نیشنل لائرز فورم کے صدر کلیم اللہ کاکڑ ودیگر بھی موجود تھے اصغر خان اچکزئی نے بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک بھر کی سیاسی صورتحال باالخصوص بلوچستان اور پشتونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی ٹارگٹ کلنگ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کے مسائل پر تفصیلی غور اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیااے این پی بلوچستان کے صدر نے کہا کہ حالیہ عرصے میں سانحہ زیارت، ہنہ، شعبان، زرغون غر اور شاہرگ سمیت مختلف واقعات نے صوبے کے عوام کو شدید متاثر کیا ہے جہاں درجنوں خاندان اپنے پیارے کھو بیٹھے جبکہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی ٹارگٹ کلنگ نے معاشرے میں خوف اور بے یقینی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہےانہوں نے کہا کہ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عوام کے تحفظ پر مامور اہلکار خود عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے وابستہ افراد بھی انصاف کے خواہاں ہیں
انہوں نے کہا کہ سانحہ زیارت ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ تھا، تاہم شہداء کے خون اور ان کے لواحقین کی ہمت و استقامت نے پشتون، بلوچ اور ہزارہ اقوام کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو مزید مضبوط کیا انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کا مقصد معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا ہوتا ہے، لیکن بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ امن، بھائی چارے اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہےاصغر خان اچکزئی نے کہا کہ حکومت کو بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے جو ڈرافٹ پیش کیا گیا ہے، اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں محض وعدوں اور یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو باور دلانا ہوگا
انہوں نے اعلان کیا کہ 8 اگست کو شہدائے اگست کی یاد میں چمن میں جلسہ عام جبکہ 17 اگست کو کوئٹہ میں شہدائے اگست کی یاد میں سیمینار منعقد کیا جائے گا جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور سانحہ زیارت کے لواحقین کو شرکت کی دعوت دی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ یہ اجتماعات بلوچستان کی موجودہ صورتحال امن کے قیام اور سیاسی و جمہوری جدوجہد کے حوالے سے اہم ثابت ہوں گے
ایک سوال کے جواب میں اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات آج بھی انتہائی خراب ہیں کوئٹہ کے ملحقہ علاقوں، منگلہ سران اور کلی زورکان سمیت مختلف علاقوں سے لوگوں کی مبینہ جبری بے دخلی کے معاملات سامنے آ رہے ہیں، مگر حکومت اس تمام صورتحال پر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہےانہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق، جان و مال کا تحفظ اور امن کا قیام ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ حالات میں حکومت کی خاموشی اور عدم توجہی باعث تشویش ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان پر کہ بلوچستان کا مسئلہ چند سرداروں تک محدود ہے اصغر خان اچکزئی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مؤقف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل سیاسی معاشی سماجی اور انتظامی نوعیت کے ہیں جنہیں وسیع تناظر میں دیکھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہےانہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام کو امن، انصاف، ترقی اور برابری کے حقوق فراہم کیے بغیر مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر صوبے کے حالات بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ بعض قوتوں کا مقصد مسائل کو گراس روٹ لیول تک لے جانا اور اپنے اثر و رسوخ و قبضے کو وسعت دینا ہے، تاہم عوامی مسائل کا حل سیاسی عمل، جمہوری جدوجہد اور عوامی شمولیت کے ذریعے ہی ممکن ہے صوبوں نے پاکستان بنایا ہے اس بات کو سمجھنا ہوگا صوبوں کی تقسیم بچگانہ کھیل نہیں اس پر سکورنگ سے اجتناب برتا جائے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت میں ہونے والی جدوجہد ہمیشہ دیرپا اور مثبت نتائج کی حامل رہی ہے جبکہ قبائلی اور قبیلوی بنیادوں پر ہونے والی کوششیں سیاسی عمل کے مقابلے میں کمزور ثابت ہوئی ہیں انہوں نے کہا کہ مضبوط سیاسی نظام ہی عوام کے حقوق کے تحفظ، مسائل کے حل اور پائیدار امن کے قیام کی ضمانت دے سکتا ہے ایک اور سوال کے جواب میں اے این پی بلوچستان کے صدر نے ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن سے علیحدہ کرنے ضلع موسیٰ خیل کی دو یونین کونسلوں کو ضلع بارکھان میں شامل کرنے اور ضلع شیرانی کے ضلعی ہیڈکوارٹر کی تبدیلی کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بدنیتی پر مبنی ہیں، جن کی عوامی نیشنل پارٹی بھرپور مذمت کرتی ہے
انہوں نے کہا کہ انتظامی تبدیلیاں عوامی سہولیات، مشاورت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہئیں، نہ کہ سیاسی مقاصد یا کسی مخصوص علاقے کو متاثر کرنے کے لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے اور مقامی آبادی کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے ایک سوال کے جواب میں اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ عوام الناس کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں جس بھی نام یا عنوان سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہمارے لیے اصل ذمہ دار ریاست اور یہاں کے حکمران ہیں کیونکہ شہریوں کے تحفظ، امن کے قیام اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ہمیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ہمیں کس نام سے مارا جا رہا ہے، اصل مسئلہ عوام کا تحفظ اور امن کا قیام ہے انہوں نے کہا کہ پشتونوں اور بلوچوں کو صرف جانی نقصان کا سامنا نہیں بلکہ ان کا معاشی استحصال اور معاشی قتل عام بھی جاری ہے انہوں نے کہا کہ چمن اور طورخم جیسے اہم تجارتی راستوں کی بندش نے ہزاروں خاندانوں تاجروں مزدوروں اور علاقوں سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن سے متصل گزرگاہوں کی بندش سے نہ صرف تجارت متاثر ہو رہی ہے بلکہ عام لوگوں کے روزگار، معاشی سرگرمیوں اور مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جن سے عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا ازالہ ہو اور خطے میں معمولات زندگی بحال کیے جا سکیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کس کے نمائندے ہیں اور کس سیاسی جماعت سے ان کا تعلق ہے ان کی بیان سے نفرت کی بو آتی ہے

WhatsApp
Get Alert