1100 سال پرانا بلیو قرآن، سونے کی روشنائی سے لکھا گیا اسلامی فن کا نایاب شاہکار

لندن (قدرت روزنامہ)بلیو قرآن (Blue Qur’an) جسے عربی میں “المصحف الأزرق” کہا جاتا ہے، دنیا کے نایاب ترین اور تاریخی اہمیت رکھنے والے قرآنی مخطوطات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ عظیم شاہکار اسلامی خطاطی، کتابت اور فنِ مصوری کی ایک منفرد مثال ہے۔

محققین کے مطابق بلیو قرآن تقریباً 9ویں سے 10ویں صدی عیسوی کے درمیان تیار کیا گیا، جس کی عمر لگ بھگ 1100 سے 1200 سال بنتی ہے۔ اس نایاب نسخے کے صفحات عام کاغذ پر نہیں بلکہ نیل (Indigo) سے رنگے ہوئے چمڑے (Parchment) پر تیار کیے گئے تھے۔

قرآنِ کریم کا متن خالص سونے کی روشنائی سے خوبصورت کوفی رسم الخط میں تحریر کیا گیا، جبکہ بعض آرائشی علامات چاندی سے بنائی گئی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ چاندی کے کئی نشانات سیاہ پڑ چکے ہیں، تاہم اس مخطوطے کی تاریخی اور فنی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔

تاریخی اندازوں کے مطابق مکمل بلیو قرآن تقریباً 600 سے 650 صفحات پر مشتمل تھا، تاہم موجودہ دور میں اس کے صرف تقریباً 100 صفحات ہی محفوظ رہ گئے ہیں، جو دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور نجی مجموعوں میں رکھے گئے ہیں۔

بلیو قرآن کے محفوظ صفحات تیونس، نیویارک اور دیگر عالمی مراکز میں اسلامی فنون کے ذخائر کا حصہ ہیں، جہاں محققین اور فنِ خطاطی سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بلیو قرآن نہ صرف ایک مذہبی مخطوطہ ہے بلکہ اسلامی تہذیب، فنِ خطاطی اور قدیم کتابت کے اعلیٰ معیار کی ایک شاندار علامت بھی ہے، جو آج بھی دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کے باعث توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

WhatsApp
Get Alert