افغانستان کی طالبان حکومت نے بڑھتی کشیدگی کے باعث بدخشاں میں کان کنی کا عمل معطل کردیا

افغانستان (قدرت روزنامہ)افغان طالبان نے صوبہ بدخشاں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اندرونی تناؤ کے پیشِ نظر کان کنی کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق غیر قانونی کان کنی اور کانوں پر قبضے کی شکایات کے بعد کان کنی کے نئے اصول و ضوابط کی تیاری تک بعض کانوں میں کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق اس سے قبل طالبان کے سپریم لیڈر کی جانب سے غیر قانونی کان کنی کو بند کرنے کے حکم نے بعض مقامی طالبان کمانڈرز کے معاشی مفادات کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا تھا جس سے افغان طالبان کی قیادت میں تناؤ پیدا ہوا ہے اور معدنیات کا کنٹرول بدخشاں میں مقامی طالبان شخصیات اور مرکزی قیادت کے درمیان اختلاف کا ایک بڑا سبب بن چکا ہے۔
اس پابندی کے باعث مرکزی قیادت سے اختلاف رکھنے والے مقامی طالبان کمانڈر جمعہ خان فاتح اور سینیئر طالبان حکام کے درمیان کئی ہفتوں تک کشیدگی جاری رہی جو مبینہ طور پر اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ دونوں فریقین ممکنہ مسلح تصادم کے لیے تیار ہو گئے تھے۔
دوسری جانب بدخشاں میں کانوں کی مسلسل بندش پر مقامی مزدوروں کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا ہے، مظاہرین نے کہا کہ کم آمدنی والے غریب شہریوں کی ورکشاپس تقریباً ایک ماہ سے بند پڑی ہیں جبکہ بااثر افراد سے جڑے کان کنی کے منصوبے بلا تعطل جاری ہیں۔
