لاہور میں اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی پر ایس ایچ او سمیت 78 اہلکاروں کا پورا تھانہ معطل
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے رات گئے تھانہ غازی آباد کا ہنگامی دورہ کیا اور مقدمے میں کارروائی میں تاخیر، متعلقہ افسران کو بروقت آگاہ نہ کرنے اور پیشہ ورانہ غفلت کا سخت نوٹس لیا

لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور کے علاقے غازی آباد میں ایک ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں پولیس کے اعلیٰ حکام نے غفلت اور کارروائی میں تاخیر پر سخت محکمانہ ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او سمیت تھانے کے پورے عملے کو معطل کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے رات گئے تھانہ غازی آباد کا ہنگامی دورہ کیا اور مقدمے میں کارروائی میں تاخیر، متعلقہ افسران کو بروقت آگاہ نہ کرنے اور پیشہ ورانہ غفلت کا سخت نوٹس لیا، ابتدائی انکوائری کے بعد ایس ایچ او غازی آباد شہریار سمیت تھانے کے تمام اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او شہریار کو معطل کرکے ان کی جگہ علی زیب دستگیر کو تھانہ غازی آباد کا نیا ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ مقدمے کی تفتیش اور انتظامی امور شفاف انداز میں آگے بڑھائے جا سکیں جب کہ ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر سب انسپکٹرز، 8 اے ایس آئیز، 5 ہیڈ کانسٹیبلز سمیت مجموعی طور پر 78 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ تھانے کا فرنٹ ڈیسک عملہ، محرر اور ڈرائیورز بھی معطلی کی کارروائی کی زد میں آئے ہیں، پولیس ترجمان سے معلوم ہوا ہے کہ تھانہ غازی آباد میں ایس ایچ او سمیت تمام معطل اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ ریکارڈ بھی مرتب کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل غازی آباد تھانے کے انویسٹی گیشن ونگ میں تعینات اے ایس آئی عمران پر ایک ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کا الزام سامنے آیا تھا، متاثرہ خاندان کی شکایت پر پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا تھا، پولیس حکام کا کہنا تھا کہ مقدمے کی تحقیقات میرٹ پر جاری ہیں اور واقعے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا ذمہ داری ثابت ہونے پر متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
