پشتونوں کی مبینہ ہراسانی پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا اظہارِ تشویش، فوری کارروائی کا مطالبہ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (پی کے میپ) نے سندھ، بالخصوص کراچی میں پشتونوں کی مبینہ بلاجواز گرفتاریوں، ہراسانی، غیر قانونی حراست اور نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کراچی اور سندھ کے مختلف علاقوں میں پشتون نوجوانوں، مزدوروں، تاجروں، طلبہ، ڈرائیوروں اور محنت کشوں کو شناختی دستاویزات ہونے کے باوجود مبینہ طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے، جس سے شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
بیان میں کراچی کے علاقے لانڈھی سے دو نوجوانوں، علی محمد اور نیاز محمد، کو سندھ رینجرز کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے واقعے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ اگر ان افراد پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، اور اگر وہ بے گناہ ہیں تو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ پشتون عوام نے ملک کی معیشت، تجارت، صنعت، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور امن و استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم انہیں مبینہ طور پر نسلی پروفائلنگ اور امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو آئینی اصولوں اور مساوی شہری حقوق کے منافی ہے۔
پارٹی نے وفاقی حکومت، سندھ حکومت، وزارت داخلہ، سندھ رینجرز، سندھ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ پشتونوں کے خلاف مبینہ بلاجواز گرفتاریوں، غیر قانونی حراست اور ہراسانی کے واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے، بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہر شہری کے آئینی، جمہوری اور انسانی حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے اور اگر ایسے واقعات کا سلسلہ بند نہ ہوا تو پارٹی اس معاملے کو تمام آئینی، جمہوری اور پارلیمانی فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔

WhatsApp
Get Alert