میر رضا علی کی موت کیسے ہوئی؟ پولیس سرجن کی رپورٹ منطرعام پر

کراچی(قدرت روزنامہ) پولیس سرجن نے میر رضا کی وجہ موت کو طبی زبان میں ہیمرجک شاک قرار دے دیا ، ہیمرجک شاک زیادہ خون بہہ جانے سے جسم اور دماغ پر پڑنے والے اثرات کا نام ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے تاجر میر رضا علی کی لاش ملنے کے معاملے میں پوسٹ مارٹم اور موت کی ابتدائی وجوہات سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی۔
پولیس سرجن نے میر رضا کی وجہ موت کو طبی زبان میں ہیمرجک شاک قرار دیا، ہیمرجک شاک زیادہ خون بہہ جانے سے جسم اور دماغ پر پڑنے والے اثرات کا نام ہے۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ میر رضا علی کی موت شدید خون بہنے کےباعث ہوئی تاہم پوسٹ مارٹم میں میر رضا کو سینے میں ایک گولی لگنے کے شواہد ملے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتول کو 30 بور کے پستول سے گولی ماری گئی، تاہم پولیس تاحال آلہِ قتل اور گولی کا خول برآمد نہیں کر سکی ہے۔

تفتیشی حکام نے مزید بتایا کہ لاش میں تعفن اور گلنے سڑنے کے آثار موجود ہیں، جس کے باعث موت کی حتمی وجوہات اور دیگر کیمیائی تفصیلات کا تعین کیمیائی تجزیے کی رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

خیال رہےکراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون سے 25 سالہ میر رضا علی کی تشدد زدہ لاش ملنے کے ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات جاری ہے۔

پولیس نے میر رضا علی کے قتل کی واردات میں قریبی شخص کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

گذشتہ روز ایک نئی فوٹیج میں میر رضا علی کو جیب سے ایک روشن چیز نکال کر پھینکتے دیکھا جا سکتا تھا تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ یہ چیز ان کا موبائل فون معلوم ہوتی ہے۔

حکام نے بتایا تھا کہ جس شہری کو میر رضا کا فون ملا، اس نے پولیس کو اس جگہ کی نشاندہی کر دی ہے، شہری کا کہنا ہے کہ فون اسی مقام سے ملا جہاں سی سی ٹی وی میں چیز پھینکی گئی تھی۔

اس سے قبل ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا کو آن لائن ٹیکسی میں بیٹھتے دیکھا جا سکتا تھا، تفتیشی ذرائع کے مطابق گاڑی میں بیٹھتے وقت ان کی کمر پر پستول لگا ہوا تھا۔

پولیس تفتیشی ٹیم نے میر رضا کے گھر کے بعد موقع واردات ا دوبارہ دورہ کیا ہے تاکہ مختلف شواہد کو باہم جوڑا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert