ضلع موسیٰ خیل کے علاقے بارکھان میں شامل کرنے کے خلاف 21 اگست کو نیشنل ہائی وے بلاک کرنے کا اعلان
آل پارٹیز موسیٰ خیل کا نوٹیفکیشن کی واپسی تک جدوجہد اور احتجاج جاری رکھنے کا انتباہ، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو احتجاج میں وسعت لائیں گے

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) آل پارٹیز موسیٰ خیل کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ضلع موسیٰ خیل بچاؤ تحریک یونین کونسل راڑہ شم اور یونین کونسل انڈر پڑ کی بارکھان میں شامل کرنے کے نوٹیفکیشن کے خاتمے تک اپنا جدوجہد جاری رکھتے ہوئے بھرپور احتجاج کریں گے اگر مطالبہ پر عملدرآمد نہیں کیاگیا تو21اگست راڑہ شم کے مقام پر نیشنل ہائی وے بلاک کرکے احتجاج کریں گے پھر بھی مطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو احتجاج میں وسعت لائیں گے‘یہ بات جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر مولانا محمد سرور موسیٰ خیل‘ صدر موسیٰ خیل تحریک انصاف و چیئرمین ضلع کونسل عالم خان‘ پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کے ملک عید محمد‘پشتونخواملی عوامی پارٹی کے دلاور خان‘ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رحمت خاہ‘ چیف آف غرشین سردار اسدالزمان‘چیئرمین یونین کونسل ملک عطاء محمد بزدار ودیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘ انہوں نے کہاکہ موسیٰ خیل پاکستان اور بلوچستان کا پسماندہ ترین صوبہ ہے اس ضلع کی پسماندگی بنیادی وجہ حکومتی فیصلے ہیں جو مختلف اوقات میں مسلط کیے ہیں انہوںنے کہاکہ موسیٰ خیل کو شروع میں ژوب کا حصہ بنایاگیا موسیٰ خیل کو ژوب سے نکال کر بارکھان کا حصہ بنایاگیا پھر بارکھان سے نکال کر لورالائی کا حصہ بنایا بعد میں موسیٰ خیل کے عوام کی طویل جدوجہد کے بعد ضلع کا درجہ دیاگیا 2001میں ضلع کا حیثیت دوبارہ ختم کیاگیا ایک بار پھر عوام نے جدوجہد کی اور ضلعی حیثیت دوبارہ بحال کیا اور موسیٰ خیل کو صوبائی اسمبلی نشست دیاگیا لیکن 2018میں یہ نشست دوبارہ ختم کرکے موسیٰ خیل کو صوبائی اسمبلی کی نمائندگی سے محروم کیاگیا جو آج تک محروم ہے انہوں نے کہاکہ سرکاری نے مذکورہ بالا زیادتیوں کا تسلسل جاری ہے لیکن اب موسیٰ خیل کو ٹکروں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے موسیٰ خیل کا ایک حصہ جو راڑہ شم اور انڈر پڑ یونین کونسلوں پر مشتمل ہے اس حصے کے موسیٰ خیل سے الگ کرکے ضلع بارکھان میں شامل کیاگیا تاکہ کوہلو بیکڑ بارکھان پر مشتمل قومی حلقہ بنا کرکے موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا ایم این اے بنایا جاسکے جبکہ دونوں یونین کونسلوں کے عوام بارکھان میں شامل ہونے سے سخت ناراض ہے اور احتجاج پر مجبور ہیں اس سلسلے میں گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقاتیں کریں گے اور نوٹیفکیشن واپسی کی درخواست کریں گے اگر مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا تو21اگست کو راڑہ شم کے مقام پر بلوچستان پنجاب قومی شاہراہ بلاک کریں گے اگر پھر بھی مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا تو احتجاج میں مزید وسعت لائیں گے۔
