قلعہ سیف اللہ کے پولیس تھانوں سے اسلحہ واپس لینا عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

تھانوں کو غیر فعال بنانے کے احکامات فوری منسوخ کر کے ریاستی رٹ بحال کی جائے، بصورت دیگر نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی: مذمتی بیان


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے مذمتی بیان میں ضلع قلعہ سیف اللہ کے مختلف پولیس تھانوں سے اسلحہ واپس لینے اور انہیں عملاً بند کرنے اور غیر مؤثر بنانے کے فیصلے پر شدید تشویش، افسوس اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت کے اس اقدام نے پورے ضلع کے عوام کو شدید خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ سے دوچار کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس اسٹیشن قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، کان مہترزئی، نسائی، مرغہ فقیرزئی، لوئی بند، بادینی، شران جوگیزئی، شنکئی، اخترزئی، باتوزئی، مسافرپور سمیت ضلع کے تمام متعلقہ پولیس تھانوں سے بڑی تعداد میں ایس ایم جیز (SMGs) اور میگزین واپس لے کر ڈی پی او آفس منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
اس اقدام کا عملی مطلب یہ ہے کہ ان تھانوں کو غیر فعال اور بے اختیار بنایا جا رہا ہے، جبکہ عوام کو دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ جن علاقوں میں ماضی میں لیویز فورس کے تھانے موجود تھے اور بعد ازاں انہیں عوام کی مرضی و منشا کے برخلاف پولیس تھانوں میں تبدیل کیا گیا اور آج انہی پولیس تھانوں سے اسلحہ واپس لے کر ان کی دفاعی صلاحیت ختم کی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ کسی طور بھی عوامی مفاد، امن و امان اور ریاستی عملداری کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ جب ایک ایسے وقت میں، جبکہ ضلع قلعہ سیف اللہ اور اس سے ملحقہ علاقے دہشت گردی اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے خطرات سے دوچار ہیں، پولیس کو اسلحے سے محروم کیا جائے تو اس کا براہِ راست فائدہ دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کو پہنچے گا۔ حکومت کا یہ اقدام درحقیقت امن دشمن عناصر کے لیے مزید سہولت کاری کے مترادف ہے، جس کی کوئی بھی معقول توجیہ عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی رٹ اور عملداری بری طرح کمزور ہو چکی ہے۔
اگر حکومت اپنے ہی قائم کردہ پولیس تھانوں کو فعال رکھنے اور انہیں ضروری وسائل فراہم کرنے سے قاصر ہے تو یہ امن و امان کی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، لیکن موجودہ اقدامات اس کے برعکس عوام کو عدم تحفظ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے صوبای حکومت ، محکمہ داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع قلعہ سیف اللہ کے تمام پولیس تھانوں سے اسلحہ واپس لینے کے احکامات فوری طور پر منسوخ کیے جائیں، تمام تھانوں کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے۔
پولیس کو ضروری اسلحہ اور وسائل فراہم کیے جائیں اور عوام کو دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے ریاستی رٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر اس فیصلے پر فوری نظرثانی نہ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert