مجرموں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے؟ میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا تضاد منظر عام پر

کراچی (قدرت روزنامہ)کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں نوجوان تاجر میر رضا علی کے بہیمانہ اور پراسرار قتل کی تحقیقات نے ایک نیا اور سنسنی خیز رخ اختیار کر لیا ہے۔
مقتول کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جائے وقوعہ سے لی گئی تصاویر میں واضح تضاد پائے جانے کے بعد تفتیش کاروں کے سامنے نئے اور اہم سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج اور لاش کی تصاویر ایک دوسرے سے بالکل میل نہیں کھا رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تصویریں کچھ اور کہانی بیان کر رہی ہیں جبکہ تحریری رپورٹ کی زبان مختلف ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ میت کے جسم کے متعدد حصے سوجے ہوئے اور سیاہ پڑے دکھائی دے رہے ہیں اور یہ جانچنا انتہائی ضروری تھا کہ آیا وہاں تشدد یا چوٹ کا کوئی نشان موجود تھا یا نہیں۔
پولیس سرجن کے مطابق گولی لگنے کی سمت میں بھی واضح تضاد پایا جا رہا ہے جو اس کیس میں مزید ابہام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاش کے چہرے اور اوپری حصے پر گلنے سڑنے (ڈی کمپوزیشن) کے اثرات بہت زیادہ گہرے تھے اس لیے جسم کے ان متاثرہ حصوں کی مزید گہرائی سے کھوج لگانا اور تحقیق کرنا بے حد لازمی تھا۔
