امریکا کیساتھ مذاکرات کو جارحانہ سفارتکاری سمجھتے ہیں: باقر قالیباف

تهران(قدرت روزنامہ)ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرکے محور مزاحمت کو تسلیم کرلیا، ٹرمپ کا اصرار تھا کہ ایران میزائل و نیوکلیئر پروگرام، مزاحمت، ہرمز بالائے طاق رکھے، صدرٹرمپ نے دستخط کرکے محاذ مزاحمت کو فارسی میں تسلیم کرلیا، مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکا نے اسی رات ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردی تھی۔ امریکا کے ساتھ مذاکرات کو جارحانہ سفارتکاری سمجھتے ہیں۔
قالیباف کے مطابق ٹرمپ نےلکھا تھاکہ ایرانی بھی آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایران سےمتعلق بات پر میں نے مذاکرات کاروں سےکہا ٹرمپ بیان واپس لیں، میں نےمذاکرات کاروں سے کہا ٹرمپ نےبیان واپس نہ لیا تو ایران حملہ کریگا، 58 منٹ بعد ہی ٹرمپ نے اپنے بیان کا دوسرا حصہ سوشل میڈیا سے ہٹادیا۔
باقر قالیباف نے کہا اسرائیل نےلبنان میں داہیہ پر حملہ کیا تو میں نے انتقامی کارروائی سے خبردار کیا تھا، پورےخطے کو نشانہ بنانےکی دھمکی پر اسرائیل دوبارہ حملے سے باز آیا۔
