ہم نے نفرت کی سیاست سے اس ملک کو دور رکھنا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس پر عوام کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کسی وقت میں جہاں یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں ہوا کرتی تھی، آج وہی ہائیکورٹ روزانہ اڑھائی سو کے قریب کیسز کی دائری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
یومِ آزادی کے موقع پر ہائیکورٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ججوں کی کمی کی مشکلات کے باوجود عدالتیں پوری تندہی سے کام کر رہی ہیں، دائری میں یہ 5 گنا اضافہ اس بات کا انڈیکیٹر ہے کہ لوگ ریلیف حاصل کرنے کے لیے عدالتوں کا رخ کر رہے ہیں، عدلیہ کا سب سے اہم اور بنیادی کردار غیر جانبداری اور مکمل شفافیت کے ساتھ ہر حق دار کا حق ان کی دہلیز تک پہنچانا ہے، اور اس مقصد کے لیے بینچ اور بار ایک ہی نظام کے دو ناگزیر ستون ہیں۔
" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا "
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 14 اگست کے روز منعقدہ تقریب سے خطاب"اب اس ملک کو اللہ… pic.twitter.com/hsuGzDMqnN
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) August 16, 2026
ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ملک کی حفاظت کی ذمہ داری ہمارے ہاتھوں میں دی ہے، اس لیے ہم نے پاکستان کوفتنے سے، فساد سے، انتشار سے اور نفرت کی سیاست سے دور رکھنا ہے، ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے اخلاص، محبت اور احترام کے ساتھ اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا، پچھلے دو سالوں میں پاکستان نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دنیا میں امن کا نمائندہ بنا کر ابھارا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ ہماری بہترین ڈپلومیٹک کاوشوں کے باعث دنیا بھر میں پاکستان نے ممتاز حیثیت حاصل کی ہے، دفاعی لحاظ سے سب سے بڑی کامیابی تمام اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے دفاعی تعاون کا تاریخی معاہدہ طے کرنا ہے، یہ وہی تاریخی خواب تھا جو اقوامِ عالم کے اندر کسی دور میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے دیکھا تھا۔
