سانحہ زیارت جوڈیشل کمیشن نے آئی جی پولیس کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد ‘ آئی جی پولیس ریکارڈ سمیت طلب
شہداء کے ورثاء کے بیانات ریکارڈ کرانے کی تاریخ میں 3 ستمبر تک توسیع، متعدد وکلاء کی رضاکارانہ قانونی معاونت کی پیشکش

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) منگی ڈیم، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن آف انکوائری کے سربراہ جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں سماعت کی۔ سماعت کے دوران محمد فرید ڈوگر ایڈیشنل اٹارنی جنرل، انور نسیم کاسی ڈپٹی اٹارنی جنرل، حبیب اللہ گل ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل، عبدالمتین ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل، اے آئی جی (لیگل) شفیق الرحمان اور کمیشن کے رجسٹرار بھی کارروائی میں شریک ہوئے۔
کمیشن کے 18 اگست کے حکم کی تعمیل میں ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان عبداللطیف کاکڑ اور اے آئی جی (لیگل) شفیق الرحمان نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس بلوچستان کی جانب سے ایک جامع رپورٹ پیش کی۔ کمیشن نے کھلی عدالت میں رپورٹ کا جائزہ لیا اور اسے ٹی او آرز (TORs) کے تقاضوں اور سوالات کے مطابق نہ ہونے اور تمام متعلقہ ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔
کمیشن نے اگلی سماعت پر آئی جی پولیس بلوچستان کو محکمہ پولیس اور اس کے ذیلی محکموں کی جانب سے نئی جامع رپورٹ اور تمام متعلقہ ریکارڈ کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ آئی جی پولیس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے حکم سے آگاہ کریں۔
سماعت کے دوران زیارت، ہرنائی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد وکلاء نے کمیشن کے روبرو پیش ہو کر منگی ڈیم واقعے کے حقائق سامنے لانے کے لیے رضاکارانہ طور پر قانونی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ ان وکلاء میں شمس الرحمن کاکڑ، عبدالمصور، صادق خان، برخوردار خان اچکزئی اور حبیب اللہ خان ناصر ایڈووکیٹس شامل تھے۔
سماعت کے موقع پر ایک شہید اہلکار کے بھائی نسیم اللہ دیگر شہداء کے ورثاء کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ بیشتر لواحقین کا تعلق دور دراز علاقوں سے ہے، جس کے باعث وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے نام درج کرانے سے قاصر ہیں، لہٰذا تاریخ میں توسیع کی جائے۔ کمیشن نے لواحقین کی سفری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے رجسٹریشن اور ناموں کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اگست سے بڑھا کر 3 ستمبر 2026 تک مقرر کر دی ہے۔
دورانِ سماعت کمیشن کے رجسٹرار نے بتایا کہ عوامی نوٹس 19 اگست کو معروف اردو اور انگریزی اخبارات کے صفحہ اول پر شائع کیا گیا ہے اور ڈی جی پی آر کے ذریعے میڈیا مہم بھی چلائی گئی ہے۔ دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے متعلقہ حکام سے ضروری ہدایات حاصل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جس پر کمیشن نے انہیں ایک اور موقع فراہم کر دیا۔ کمیشن آف انکوائری نے مزید کارروائی 27 اگست 2026 بروز جمعرات، دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی ہے۔
