ہائی بلڈ پریشر جیسے مرض سے تحفظ کا مزیدار طریقہ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)خون کا دباؤ یا بلڈ پریشر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریانوں سے کتنی مقدار میں خون گزر رہا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر یا فشار خون کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب شریانوں سے گزرنے والے خون کا دباؤ مسلسل بہت زیادہ ہو۔
ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل مرض قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے شکار افراد کو اکثر اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ ایک مزیدار چیز سے اس جان لیوا مرض سے بچنا ممکن ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں گریوں کا استعمال ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔
اس تحقیق میں 18 سے 87 سال کی عمر کے ایک لاکھ 43 ہزار سے زائد افراد ہونے والی 8 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان میں سے 20 ہزار سے زائد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی تھی۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ غذائی عادات سے ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں کتنا اضافہ یا کمی آتی ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ کچھ مقدار میں گریاں جیسے بادام، اخروٹ، پستے اور دیگر کا استعمال ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔۔
تحقیق کے مطابق روزانہ کچھ مقدار میں گریوں کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 16 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اسی طرح 28 گرام مقدار کے استعمال سے یہ خطرہ 20 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ روزانہ مجموعی طور پر 30 گرام گریاں کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 26 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
البتہ اس سے زیادہ مقدار میں گریوں کھانے سے ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کے خطرے میں کوئی کمی دریافت نہیں ہوئی۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ گریوں میں فائبر، صحت کے لیے مفید چکنائی، میگنیشم، پوٹاشیم وٹامن ای، سی، K اور پروٹین سمیت متعدد بی وٹامنز ہوتے ہیں۔
تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ طور پر ان غذائی اجزا سے بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
مثال کے طور پر میگنیشم سے خون کی شریانوں کو پرسکون رہنے میں مدد ملتی ہے جس سے بلڈ پریشر کی سطح کم ہوتی ہے۔
وقت کے ساتھ یہ دباؤ بڑھ کر مختلف طبی مسائل جیسے امراض قلب، ہارٹ اٹیک یا فالج کا باعث بن سکتا ہے۔
بلڈ پریشر کا مسئلہ بہت عام ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس کے شکار ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر سے خون کی شریانیں اور اعضا بالخصوص دماغ، دل، آنکھیں اور گردوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
فشار خون کی تشخیص جلد ہونے سے اس کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بلڈ پریشر کو ادویات اور طرز زندگی میں چند تبدیلیوں سے کنٹرول کرنا ممکن ہے اور اگر اس کی روک تھام نہ کی جائے تو ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت متعدد امراض کا سامنا ہو سکتا ہے۔
