عمران خان کیلئے بھی پمز ہسپتال میں شاید کوئی جال بچھایا گیا تھا، سہیل افریدی
یہ انہیں بھی وہیں پر اس طرح کسی حادثے میں مارنا چاہتے تھے، واللہ اعلم! یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کوئی بھی بہانہ بنا سکتے ہیں؛ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا تقریب سے خطاب

پشاور(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں معصوم نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پمز میں پیش آنے والا یہ حادثہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کو نشانہ بنانے کے لیے بچھایا گیا کوئی جال بھی ہو سکتا تھا۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں جان سے جانے والے نومولود بچوں کا نہ تو کسی احتجاج سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی وہ کسی سیاسی مقابلے کا حصہ تھے، یہ معصوم بچے تو اپنے حق میں بول بھی نہیں سکتے تھے، اس حادثے کے پیچھے یقیناً کسی کی مجرمانہ غفلت شامل ہے، اس واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
عمران خان کے حالیہ طبی معائنے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چند دن قبل عمران خان کو بھی اسی ہسپتال لایا گیا تھا، شاید ان کے لیے بھی وہاں کوئی جال بچھایا گیا تھا تاکہ کسی حادثے کی آڑ میں ان کی جان لی جا سکے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے، یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کوئی بھی بہانہ بنا سکتے ہیں۔
پمز میں جاں بحق ہونے والے یہ بچے نہ کسی احتجاج میں گئے تھے، نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی جلسے میں۔ یہ تو اپنی بات بھی نہیں کہہ سکتے تھے۔ آخر کسی نہ کسی کی غفلت تو ضرور ہے۔
کچھ روز قبل عمران خان کو بھی اسی ہسپتال لایا گیا تھا۔ شاید ان کے لیے بھی کوئی جال بچھایا گیا تھا اور… pic.twitter.com/5aUNZ1lrGV— Atta ur Rehman Kohistani (@atta__kohistani) August 26, 2026
اس موقع پر سہیل آفریدی نے معصوم بچوں کی اموات کو ایک دردناک اور ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی، انہوں نے صوبائی محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ خیبر پختونخواہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے حکام کو حکم دیا ہے کہ ہسپتالوں کے ایس او پیز کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، عملے کو باقاعدہ فائر فائٹنگ کی تربیتی مشقیں کروائی جائیں اور ہسپتالوں کی فائر سیفٹی سے متعلق جامع رپورٹ جلد از جلد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں جمع کروائی جائے، ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت کے معاملے پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
