عمران خان اصولوں پر ڈٹے ہیں، مریم نواز کا خود کو نیلسن منڈیلا سمجھنا مضحکہ خیز ہے ’ پی ٹی آئی سیاسی ورکرز کی جماعت ہے، کوئی لشکر نہیں،ایم این اے شاندانہ گلزار
27ستمبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں ہر صورت اپنا آئینی اور پرامن احتجاج ریکارڈ کروائیں گے ‘ پریس کانفرنس ‘ پارٹی قیادت پر بھی تنقید

پشاور(قدرت روزنامہ) پشاور پریس کلب میں ایم این اے شاندانہ گلزار اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں پر کڑی تنقید کی ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل رہنما نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران ملک کو ایک کارخانہ اور عوام کو اپنے مزدور سمجھتے ہیں، جن کا مقصد صرف عوام کو دبانا اور سیاسی مخالفین کو کچلنا ہے۔ انہوں نے مریم نواز کی جانب سے جیل کاٹنے اور خود کو نیلسن منڈیلا سے تشبیہ دینے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پیسوں کے بل بوتے پر نہیں آئے، وہ آج اصولوں کی خاطر قید کاٹ کر امام حسین کی سنت پر عمل پیرا ہیں جبکہ مخالفین یزیدیت کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو عدالت کے احاطے سے گریبان سے پکڑ کر گھسیٹنا ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جو بھٹو کی پھانسی سے بھی بڑا سانحہ تھا۔
ایم این اے شاندانہ گلزار نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے 9 مئی کے واقعات کو صریحاً ‘فالس فلیگ آپریشن’ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان سیاسی ورکر ہیں، کوئی بندوق بردار لشکر نہیں کہ ان پر اس طرح کے الزامات عائد کیے جائیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ان کے 15 بے گناہ بچے شہید ہوئے جن کا تعلق پورے پاکستان سے تھا۔ انہوں نے وفاقی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان کی ترقی کے لیے صرف 1000 ارب رکھے گئے ہیں جبکہ دیگر اللے تللوں اور جہازوں کے لیے 8000 ارب کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وسائل اور پاٹا/فاٹا کے ٹیکسوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔

آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے شاندانہ گلزار نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی ہر صورت اسلام آباد کے ڈی چوک میں اپنا آئینی اور پرامن احتجاج ریکارڈ کروائے گی۔ انہوں نے خواتین ورکرز اور بچیوں پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف 9 مئی کے حوالے سے کوئی معافی نہیں مانگے گی کیونکہ انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کے بنیادی حقوق اور مسائل کے حل کے لیے دن رات کوشاں ہے۔
