میں نے شہبازشریف سے پوچھا تھا کہ لیڈر کے علاج اور ملاقات کے مطالبے پر کیا لانگ مارچ میں لاشیں بِچھا دو گے؟ مولانا فضل الرحمان

ملتان (قدرت روزنامہ) سربراہ جےیوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں نے شہبازشریف سے پوچھا تھا کہ لیڈر کے علاج اور ملاقات کے مطالبے پر کیا لاشیں بِچھا دو گے؟ اتنے مجبور حکمران ہو تم، مجھے خدا اتنا مجبور حکمران نہ بنائے، میں ایسے گھوڑے پر سوار ہونے کیلئے تیار نہیں جس کے لگام میرے ہاتھ میں نہیں ہوں گے، آپ جعلی حکومت ہیں اور حق نمک ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے ملتان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری کی بات کی ہے، کس بات کی خودمختاری؟ یہ کوئی کنفیڈریش نہیں ہے کہ کوئی یونٹ جب چاہے آزادی حاصل کرے اور الگ ہو جائے، یہ فیڈریشن ہے کہ جس فیڈریشن کے تحت تمام یونٹیں اور تمام صوبے اپنے وسائل پر اختیار رکھتے ہیں، اپنی قانون سازی پر اختیار رکھتے ہیں، لیکن ہر چند کے آئین صوبوں کو اختیار دیتا ہے، صوبوں کے عوام کو اختیار دیتا ہے اور ہر صوبے کے وسائل پر وہاں کے عوام وہاں کے بچوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن جب بھی دیکھا، جب بھی دیکھا صوبوں کے اختیار پر شب خون مارا گیا، مجھے یاد ہے جب انیس سو تریہتر میں بلوچستان حکومت توڑی گئی اور وہاں گورنر راج نافذ کیا گیا وہ بھی پاکستان پیپلز پارٹی جو کہتی ہے کہ جمہوریت میری شناخت ہے، جس جماعت کی شناخت جمہوریت ہے اسی نے سن ستر کے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بنگال کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا، اسی نے بٹے ہوئے پاکستان کے اندر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا اور صوبہ سرحد میں راتوں رات گورنر کو تبدیل کر دیا اور اس کے نتیجے میں مولانا مفتی محمود تھا جس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ ایک لمحے کے لیے بھی مزید حکومت جاری رکھے اور اپنی وزارت کے منصف سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا، اور ماشاءاللہ جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا ہے پنجاب میں لگا، بلوچستان میں لگا، خیبر پختونخواہ میں لگا، جب بھی لگا یہ جمہوریت کی علم بردار پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے نامدار سربراہ آصف زرداری ہی کی قسمت میں آیا۔
یہ ہماری تاریخ ہے ہمارے درمیان بعض دفعہ اتفاق بھی ہوتا ہے لیکن بہرحال یہ تاریخ ہے اس کو تنقید نہ سمجھا جائے، اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا جائے کہ آج ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج نافذ کیا گیا، لیکن ذرا اس گورنر راج کا جائزہ تو لے لیں ایک صوبہ ہے آدھے میں گورنر راج اور آدھے میں ایمرجنسی، اب آپ مجھے ایک بات بتائیں دو ہزار سترہ میں جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم نے ایک اختلاف رائے کیا تھا، اس بات پر نہیں کہ ضم نہیں کیا جانا چاہیے ہم نے انضمام کی مخالفت نہیں کی تھی، ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ قبائلی عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، انضمام بھی ایک صورت ہو سکتی ہے، مستقل صوبہ بھی ایک صورت ہو سکتا ہے اور جس صورتحال میں چلا آ رہا ہے اس کو برقرار رکھنا بھی ایک صورت ہے، ان تینوں صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے فاٹا کے عوام سے پوچھا جائے، لیکن فاٹا کے عوام سے نہیں پوچھا گیا، میاں نواز شریف صاحب کے ذہن میں انضمام یہ فاٹا کے عوام کے فائدہ میں تھا، وہ صوبہ بن گیا اس صوبہ کے پہاڑ اور اس پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر زخائر وہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ملکیت بن گئے، انضمام کے بعد ان تمام ذخائر اور وسائل پر صوبہ کے عوام کا حق ثابت ہو گیا، آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبہ میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا اور صرف قبائلی علاقہ سابق فاٹا اور چار ضلعے صرف یہ بتانے کے لیے یہ دھوکہ دینے کے لیے قوم کو کہ یہاں تو بدامنی ہے، تو فاٹا میں بھی بدامنی ہے، تو ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بدامنی ہے، تو ٹانک میں بھی بدامنی ہے، لکی مروت میں بھی بدامنی ہے، بنوں میں بھی بدامنی ہے، یہ صرف آپ کو دکھانے کے لیے کہ ہم نے یہ سارا کام بدامنی کی وجہ سے کیا ہے، اگر بدامنی ہی وجہ ہے تو آج کل تو آپ کو کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں زبردست مار پڑ رہی ہے اس کو کیوں باہر رکھا ہے؟
جب میں نے جناب شہباز شریف صاحب سے پوچھا کہ آپ لانگ مارچ کو روک رہے ہیں اور پوری قوت کے ساتھ روکنا چاہتے ہیں اور لانگ مارچ آئے گا تو پھر آپ ریاستی طاقت سے اس کو واپس کریں گے، گولی چلائیں گے، سو دو سو لوگوں کو شہید کریں گے، کس کے بدلے میں؟ مسئلہ کیا ہے؟ اس بات پر کہ وہ ملاقات چاہتے ہیں، وہ اپنے لیڈر کی علاج کے لیے اسپتال لانا چاہتے ہیں، اس مطالبے پر آپ سینکڑوں لاشیں بچھائیں گے، کس طرح سوچتے ہو تم لوگ سمجھ میں نہیں آتی بات اور پھر میرے استدلال کو تسلیم کرنے کے باوجود، میں تو آپ سے سات بجے چلا گیا تھا صبح اور نو بجے دو گھنٹے کے اندر اندر آپ پھر گئے، اتنے مجبور حکمران ہو تم، مجھے خدا اتنا مجبور حکمران نہ بنائے، میں ایسے گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے تیار نہیں جس کے لگام میرے ہاتھ میں نہیں ہوں گے، آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں، جو لوگ آپ کو دھاندلیوں کے ذریعے اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی انہی کی مرہون منت ہے اور آپ حق نمک ادا کر رہے ہیں اور کچھ نہیں ہے کوئی حکومت نہیں ہے ان کے پاس۔
آج ہمیں ان تمام حالات کی طرف دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اس ملک اور وطن عزیز کو ان کے حوالے کر دیں؟ جیسے ہماری قسمت کے ساتھ کھیلتے رہیں گے، جس طرح ہمارے نظام کو تل چٹ کرتے رہیں گے، ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا اور میں یہ واضح طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ:ابھی آنکھوں کے شمعیں چل رہی ہیں، پیار زندہ ہے
ابھی مایوس مت ہونا، ابھی بیمار زندہ ہے
ہزاروں زخم کھا کر بھی میں ظالم کے مقابل ہوں
خدا کا شکر ہے، اب تک دل خوددار زندہ ہے
کوئی بیعت طلب جا کر خبر دے کہ میں زندہ ہوں
جب تک جرات انکار زندہ ہےامیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ملتان میں خطاب
— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) October 16, 2026
تو آپ کی چوری ہم جانتے ہیں، بدامنی کی بات کرتے ہو، دہشت گردی کی بات کرتے ہو، اگر بات بدامنی کی ہے تو بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب ہیں، اگر گورنر راج اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ بدامنی ہے، اگر ایمرجنسی اس لیے لگائی جا رہی ہے کہ بدامنی ہے تو پھر اس کا زیادہ حقدار اگر کوئی بن سکتا تھا تو وہ تو صوبہ بلوچستان بن سکتا تھا، بلوچستان میں اس لیے نہیں لگا رہے کہ وہاں کا وزیر اعلیٰ آپ کا مدح سرا اور آپ کا حدی خوان ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی حکومت ہے، بات پی ٹی آئی کی نہیں ہے، بات ایک کا اصول کی ہے کہ جہاں اپوزیشن کی حکومت ہو آپ وہاں پر ان کی حکومت کو اڑانے اور وہ فاٹا جس کے ذخائر و وسائل صوبے کا حصہ بن چکے تھے آپ نے ایمرجنسی لگا کر ان کے تمام وسائل کو وفاق کے تابع بنا دیا ہے، کل جس ہاتھ سے آپ نے ان کو کچھ دیا تھا آج دوسرے ہاتھ سے آپ نے واپس چھین لیا ہے۔
یہ ملک تمہاری ملکیت ہے؟ تمہارے باپ دادا کی ملکیت ہے؟ یہ عوام تمہارے نوکر ہیں؟ عوام تمہیں جانور نظر آتے ہیں؟ جیسا چارہ چاہو ان کے سامنے ڈال دو، یاد رکھو! آپ کے اس غیر جمہوری اور جابرانہ اقدام اس کا مقابلہ کوئی پارٹی نہیں کرے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے جناب شہباز شریف صاحب سے پوچھا کہ آپ لانگ مارچ کو روک رہے ہیں اور پوری قوت کے ساتھ روکنا چاہتے ہیں اور لانگ مارچ آئے گا تو پھر آپ ریاستی طاقت سے اس کو واپس کریں گے، گولی چلائیں گے، سو دو سو لوگوں کو شہید کریں گے، کس کے بدلے میں؟ مسئلہ کیا ہے؟ اس بات پر کہ وہ ملاقات چاہتے ہیں، وہ اپنے لیڈر کی علاج کے لیے اسپتال لانا چاہتے ہیں، اس مطالبے پر آپ سینکڑوں لاشیں بچھائیں گے، کس طرح سوچتے ہو تم لوگ سمجھ میں نہیں آتی بات اور پھر میرے استدلال کو تسلیم کرنے کے باوجود، میں تو آپ سے سات بجے چلا گیا تھا صبح اور نو بجے دو گھنٹے کے اندر اندر آپ پھر گئے، اتنے مجبور حکمران ہو تم، مجھے خدا اتنا مجبور حکمران نہ بنائے، میں ایسے گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے تیار نہیں جس کے لگام میرے ہاتھ میں نہیں ہوں گے، آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں، جو لوگ آپ کو دھاندلیوں کے ذریعے اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی انہی کی مرہون منت ہے اور آپ حق نمک ادا کر رہے ہیں اور کچھ نہیں ہے کوئی حکومت نہیں ہے ان کے پاس۔
