عدلیہ عوام کی خدمت کے لیے ہے، بینچ اور بار کو مل کر کام کرنا ہوگا، شہدا کی قربانیاں قانون کی حکمرانی کی اخلاقی بنیاد ہیں، جسٹس یحییٰ خان آفریدی
سہولت سینٹر کے قیام سے عوام کو کئی سہولتیں میسر آئیں گی، انصاف کی فراہمی تیز ہوگی: چیف جسٹس آف پاکستان

ہر ضلع اور تحصیل میں سہولت مرکز قائم کرنے کی خواہش ہے، ٹیکنالوجی انصاف کی فراہمی کو قابل رسائی بنانے کا ذریعہ ہے
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا ہے کہ سہولت سینٹر کے قیام سے انصاف کی فراہمی کا عمل تیز ہو گا،سہولت سینٹر کے قیام سے عوام کو کئی سہولتیں میسر آئیں گی، سینٹر کا مقصد سائلین اور وکلا کو فوری سہولتیں فراہم کرنا ہے،خواہش ہے یہ سینٹر ہر ضلع اور ہر تحصیل میں قائم کیا جائے، سہولت مرکز ملک کے ہر ضلع میں قائم کریں گے۔وہ پیر کو بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کے احاطے میں نئے تعمیر شدہ عوامی سہولت مرکز کے افتتاح کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔ افتتاحی تقریب میں وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس روزی خان بڑیچ، سپریم کورٹ کے ججز جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز جسٹس اقبال کاسی، جسٹس گل حسن ترین، جسٹس سردار احمد حلیمی، جسٹس شوکت علی رخشانی، جسٹس محمد عامر نواز رانا، جسٹس عبد القیوم لہڑی اور جسٹس اللہ داد روشان، رجسٹرار بلوچستان ہائیکورٹ ناصر خان یوسفزئی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، سیکرٹری خزانہ محمد جہانگیر کاکڑ، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات بابر خان، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر، بلوچستان بار کونسل کے ممبران افضل حریفال ایڈووکیٹ اور راحب بلیدی، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطا اللہ لانگو، جنرل سیکرٹری سید نجب الدین آغا، دیگر عہدیداران اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر شہید ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور دیگر شہید وکلا کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔چیف جسٹس پاکستان نے سہولت مرکز کا افتتاح کیا اور اس کے مختلف شعبوں کا دورہ کرکے سائلین اور وکلا کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی نے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کو سہولت مرکز کے قیام پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نظام انصاف میں وسیع تر تبدیلی کی جانب اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد عدالت کے گرد گھومنے والے نظام کو شہری مرکزیت کے حامل نظام میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو عدالتی نظام میں بہترین انداز میں استعمال کرنا انصاف کی فراہمی کو مزید قابل رسائی، موثر اور سائلین کی ضروریات کے مطابق بنانے کا اہم ذریعہ ہے، تاہم ٹیکنالوجی کو اصلاحات کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود اصلاحات نہیں، ٹیکنالوجی ذریعہ ہے جبکہ انصاف اصل مقصد ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں ہر حال میں اس مقصد کو پیش نظر رکھنا ہوگا تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انصاف کی فراہمی تیز، شفاف، موثر اور عوام دوست بن سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان آنا ان کے لیے باعثِ خوشی اور اعزاز ہے اور بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ محبت اور عزت سے نوازا ہے۔ پبلک فیسلی ٹیشن سنٹر کے قیام سے سائلین اور وکلا کو فوری اور مثر سہولیات میسر آئیں گی جبکہ انصاف کی فراہمی کا عمل مزید آسان اور تیز ہوگا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ خواہش ہے کہ اس نوعیت کے سہولت مراکز بلوچستان کے ہر ضلع اور تحصیل میں قائم کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے تحت ملک بھر میں عدالتی سہولیات کی فراہمی اور نظام انصاف کو عام شہری کے لیے مزید قابل رسائی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں سہولت مراکز میں بنیادی ضروریات کا بھی خیال رکھا جائے گا، جن میں بلاتعطل شمسی توانائی، تیز رفتار انٹرنیٹ، خواتین سائلین کے لیے باوقار اور مخصوص جگہیں، صاف پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی عوامی سہولیات شامل ہوں گی۔چیف جسٹس پاکستان نے عدلیہ اور وکلا کے درمیان تعاون کو عدالتی اصلاحات کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار اصلاحات کے لیے بینچ اور بار کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ قانونی برادری نظام انصاف کی بہتری میں ایک اہم شراکت دار ہے اور عدالتی اصلاحات اجتماعی کوششوں کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ کسی دور اور الگ تھلگ ادارے کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے قائم ہے۔ عدلیہ کا وجود صرف شہری کے لیے ہے اور نظام انصاف کو عوام کی ضروریات کے مطابق مسلسل بہتر بنانا ہوگا۔چیف جسٹس پاکستان نے شہید ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور شہید ہونے والے 54 وکلا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانونی پیشے سے وابستہ شہدا کی قربانیاں ملک میں قانون کی حکمرانی کی اخلاقی بنیاد ہیں۔جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ 8 اگست کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی جدوجہد کو جاری رکھا جائے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے اور سائلین کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ میں سہولت مرکز قائم کیا گیا ہے۔صرف چھ ماہ کی مدت میں ایک بہترین سہولت مرکز قائم کیا گیا، جہاں سائلین اور وکلا کو مختلف نوعیت کی قانونی معاونت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جو سائل کیس فائل کرنا چاہتا ہو یا پہلے سے زیر سماعت مقدمے سے متعلق معلومات اور معاونت کا خواہشمند ہو، وہ سہولت مرکز سے استفادہ کرسکے گا۔ سائلین، وکلا اور عوام کو سہولت مرکز کے ذریعے مختلف عدالتی خدمات ایک ہی مقام پر فراہم کی جائیں گی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ سکیورٹی سے متعلق ایس او پیز کے قیام کا مقصد عدلیہ اور وکلا سمیت تمام متعلقہ افراد کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ سہولت مرکز سائلین، وکلا اور عوام کے لیے قائم کیا گیا ہے، اس لیے نظم و ضبط اور مقررہ ضابطہ کار کی پابندی ضروری ہے۔
