قوم مشکلات سے نکلنے کے لیے اتحاد پیدا کرے، جرگے کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے ثابت قدم رہنا ہوگا:خواتین کو شرعی وراثت سے محروم رکھنے اور شادیوں میں بھاری ولور جیسی فرسودہ رسومات کا خاتمہ ضروری ہے، نواب ایاز جوگیزئی
وسائل سے مالا مال علاقوں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں لوگوں کو آبائی زمینوں سے بے دخل نہ کیا جائے

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتون قومی جرگے کے کنوینئر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کوئٹہ میں تین روزہ پشتون قومی جرگہ کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین روزہ جرگے میں پشتون قوم کو درپیش تقریباً ہر اہم سیاسی، معاشی، سماجی، آئینی اور قومی مسئلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی، اب قوم کی ذمہ داری ہے کہ جرگے کے فیصلوں کو عملی شکل دینے کے لیے منظم، متحد اور ثابت قدم رہے۔ اختتامی صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں، قبائل، سیاسی جماعتوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے جس سنجیدگی، نظم اور قومی جذبے کے ساتھ جرگے میں شرکت کی، وہ پشتون قوم کے روشن مستقبل کے لیے امید کی علامت ہے۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتونوں کو اپنی مشکلات سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ صرف دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے سے قوم کی حالت تبدیل نہیں ہوگی۔ قوموں کی ترقی کے لیے خود احتسابی، تعلیم، تنظیم، مسلسل جدوجہد اور مشترکہ فیصلوں کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ سیاسی، قبائلی اور شخصی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی بقا، امن، عزت، زمین، وسائل اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے سوال پر تمام پشتونوں کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جرگے میں تین دن تک جاری رہنے والی گفتگو میں ہر مقرر کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ مشران کے ساتھ نوجوانوں، خواتین، علمائے کرام، وکلا، تاجروں، زمینداروں، ٹرانسپورٹروں، سماجی کارکنوں اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی مسائل اور ان کے حل کے متعلق تجاویز پیش کیں۔ ان تمام آرا اور سفارشات کو مرتب کرکے آئندہ کے قومی لائحہ عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔ جرگہ صرف اجتماع یا تقاریر کا نام نہیں بلکہ قومی فیصلوں، ذمہ داریوں اور عملی جدوجہد کا فورم ہونا چاہیے۔
نواب ایاز جوگیزئی نے پشتون معاشرے میں موجود بعض فرسودہ رسم و رواج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو بیرونی مشکلات کے ساتھ داخلی سماجی خرابیوں کے خاتمے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ شادیوں میں بھاری ولور اور غیر ضروری اخراجات نے غریب خاندانوں اور نوجوانوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کردی ہیں۔ تین، چار اور پانچ لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ رقم کے مطالبات اور نمود و نمائش نے شادی جیسے جائز اور آسان عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ مشران، علمائے کرام اور نوجوانوں کو مل کر ایسی نقصان دہ روایات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
انہوں نے خواتین، بیٹیوں اور بیواؤں کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے خواتین کو عزت، وراثت اور جائیداد میں واضح حقوق دیے ہیں لیکن پشتون معاشرے کے کئی حصوں میں بیٹیوں اور بیواؤں کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ کسی بھائی، والد یا خاندان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ عورت کا جائز حق اپنے قبضے میں رکھے۔ قوم کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو تعلیم، وراثت، تحفظ، عزت اور فیصلوں میں مناسب مقام نہیں دیا جاتا۔ جرگے کے فیصلوں میں خواتین کے حقوق اور نقصان دہ سماجی روایات کے خاتمے کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال پشتون علاقوں کے عوام آج بھی بجلی، گیس، صاف پانی، تعلیم، صحت اور روزگار جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کئی علاقوں میں اسکول تو موجود ہیں لیکن اساتذہ نہیں، ہسپتالوں میں عمارتیں ہیں مگر ڈاکٹر، ادویات اور ضروری سہولتیں دستیاب نہیں۔ کسی شہری کے زخمی یا بیمار ہونے پر بروقت ایمبولینس تک میسر نہیں ہوتی جبکہ عام آدمی کے لیے انصاف حاصل کرنا بھی مشکل اور مہنگا بن چکا ہے۔ وسائل سے بھرپور علاقوں کے عوام کو غربت، پسماندگی اور بے روزگاری میں رکھنا ناقابل قبول ہے۔

نواب ایاز خان جوگیزئی نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیکسوں، پیٹرولیم مصنوعات، ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیوں کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر ڈالا جارہا ہے۔ قرضوں اور مالی بحران کی قیمت عام شہری ادا کررہا ہے جبکہ بدعنوانی اور وسائل کے غلط استعمال کا مؤثر احتساب دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ شفاف حکمرانی، قانون کی یکساں عمل داری اور بدعنوان عناصر کے بلاامتیاز احتساب کے بغیر ملک معاشی ترقی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے زراعت اور زمینداروں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو سہولت دینے کے نام پر شروع کی جانے والی بعض قرضہ اسکیمیں، بھاری سود اور پیچیدہ شرائط بالآخر انہیں مزید مقروض کردیتی ہیں۔ ٹریکٹر، زرعی مشینری، بیج، کھاد اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے کاشت کاری کو مشکل بنا دیا ہے۔ زرعی منصوبوں اور زمینوں سے متعلق پالیسیوں میں مقامی آبادی، زمینداروں اور قبائل کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے اور کسی ترقیاتی منصوبے کی آڑ میں لوگوں کو آبائی زمینوں سے محروم نہ کیا جائے۔
نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں اور انہیں اپنے وطن میں باعزت روزگار میسر نہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور ہنرمند نوجوان مواقع نہ ہونے کے باعث دوسرے صوبوں یا بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔ قوم کو ایسے نظام کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی جس میں تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ نوجوانوں کو روزگار، تحقیق، ہنر اور قومی خدمت کے مواقع بھی فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ جرگے کی قراردادوں کو متعلقہ فورمز تک پہنچایا جائے گا اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سمیت منتخب نمائندے پشتون عوام کے مسائل پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ جرگے کے بعد رابطوں کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ اضلاع، قبائل اور مختلف شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل مستقل نظام قائم کرکے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے۔ اگر قوم منظم، متحد اور اپنے فیصلوں پر قائم رہے تو موجودہ حالات میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔
نواب ایاز جوگیزئی نے جرگے کے کامیاب انعقاد پر تمام شرکاء، سیاسی و قبائلی مشران، خواتین، نوجوانوں، صحافیوں، سوشل میڈیا کارکنوں، گرینڈ کبابش انتظامیہ، سکیورٹی رضاکاروں، طبی عملے اور مختلف انتظامی کمیٹیوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شرکاء نے تین دن تک صبر، نظم و ضبط اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اپنے مسائل کے ساتھ قابلِ عمل تجاویز بھی پیش کیں۔ یہ جرگہ اختتام نہیں بلکہ پشتون قوم کے پُرامن، متحد اور باوقار مستقبل کے لیے ایک نئی اجتماعی جدوجہد کا آغاز ہے۔
write English news With headline
