ہراسانی کیس میں نیا موڑ، نئے ڈیجیٹل شواہد پر مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو دوبارہ نوٹسز جاری
خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل، ٹیم ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ ڈی جی این سی سی آئی اے کو پیش کرے گی

لاہور(قدرت روزنامہ)معروف اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے مقدمے میں نئی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں نئے ڈیجیٹل شواہد موصول ہونے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اداکارہ مومنہ اقبال اور ن لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ازسرنو تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کردیا۔
اطلاعات کے مطابق سابقہ تفتیشی رپورٹ پر اداکارہ اور ان کے وکلاء کی جانب سے تحفظات اور نئے مواد کے سامنے آنے کے بعد این سی سی آئی اے حکام نے کیس کی باریک بینی سے دوبارہ انکوائری کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں ازسرنو تحقیقات کے لیے تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔
نئے ڈیجیٹل شواہد پر مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کو دوبارہ نوٹس جاری، از سر نو تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی۔خصوصی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر عہدے کے ایک افسر کریں گے۔ ٹیم ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ ڈی جی این سی سی آئی اے کو پیش کرے گی۔
— Muhammad Umair (@MohUmair87) September 3, 2026
بتایا گیا ہے کہ اس اعلیٰ سطح کی خصوصی ٹیم کی سربراہی ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے کے سینئر افسر کو سونپی گئی ہے، خصوصی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے ڈیجیٹل شواہد کی روشنی میں تمام فریقین سے تفتیش کرے اور ایک ماہ کے اندر اپنی حتمی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے کو پیش کرے۔
اس سے قبل سیشن عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں تفتیشی افسر نے ایم پی اے ثاقب چڈھر کو فی الحال بے قصور قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کی عدم ضرورت کا بیان دیا تھا، جس پر اداکارہ مومنہ اقبال نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں ملی بھگت کا الزام لگایا تھا اور تمام تر ثبوت سوشل میڈیا پر لانے کا اعلان کیا تھا۔
