بلوچستان اسمبلی ‘ کراچی میں پشتون تاجروں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے خلاف قرارداد پیش سندھ پولیس بلوچستان کے عوام کی دشمن ہے، وزیر اعلیٰ سندھ اعلان کریں کہ بلوچستان کے لوگ سندھ نہ آئیں: مولانا ہدایت الرحمٰن

کراچی میں سندھ پولیس رات کی تاریکی میں گوداموں پر چھاپے مارتی ہے، پشتون تاجروں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک روا رکھا گیا: اصغر ترین


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)رکن اسمبلی اصغر ترین نے بلوچستان اسمبلی میں پشتون تاجروں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے خلاف قرارداد پیش کر دی ہے۔ انہوں نے کراچی میں سندھ پولیس کی جانب سے ہوٹل مالکان اور اسٹاف پر مبینہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مبینہ تشدد کے باعث پشتون تاجر برادری کو مجبوراً کاروبار بند کرنا پڑا ہے، اور یہ کارروائی قانون کی حکمرانی کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ اصغر ترین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی جامع تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی جائے۔ قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سندھ میں پشتون تاجر برادری اور ان کے کاروبار کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور صوبائی حکومت اس معاملے کو سندھ حکومت کے ساتھ اٹھائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں سندھ پولیس رات کی تاریکی میں پشتون کاروباری افراد کے گوداموں پر چھاپے مارتی ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ حالیہ دنوں کراچی میں سندھ پولیس نے پشتون کاروباری افراد کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک روا رکھا گیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس صورتحال پر ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ سندھ حکومت سے بات کی جا سکے۔ اصغر ترین نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے، تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ پشتون بھی پہاڑوں پر چڑھ جائیں؟ اس لیے کراچی میں پشتون تاجروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ وہ اصغر ترین کی پیش کردہ قرارداد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ محنت کش ہیں، لیکن کراچی کے دورے کے دوران کراچی پولیس بھتے کے لیے ان کے پیچھے پڑی رہی۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ سندھ پولیس بلوچستان کے عوام کی دشمن ہے، اور سوال کیا کہ کیا بلوچستان کے لوگ پاکستانی نہیں ہیں کہ انہیں کراچی میں سندھ پولیس تنگ کرتی ہے؟ مولانا ہدایت الرحمٰن نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ باضابطہ اعلان کریں کہ بلوچستان کے لوگ سندھ نہ آئیں۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام سے بھی کہا کہ وہ سندھ نہ جائیں، کیونکہ بلوچستان کے لوگ علاج کی غرض سے کراچی جاتے ہیں مگر سندھ پولیس انہیں پھر بھی تنگ کرتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert