مسلط حکمران حکمت اور بصیرت سے محروم، بحرانوں کے حل کی صلاحیت نہیں رکھتے: جے یو آئی
موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث قوم مصائب کا شکار، جماعت کو مزید فعال بنانا وقت کی ضرورت: ضلعی امیر جے یو آئی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے ماتحت تحصیلوں اور یونٹوں کے امرا و نظما کا نمائندہ اجلاس ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق کی زیرِ صدارت ضلعی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں تمام تحصیلوں اور یونٹوں کی جانب سے اپنی تنظیمی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں۔اجلاس میں جماعت کو مزید فعال، منظم اور متحرک بنانے، تنظیمی دوروں کو نتیجہ خیز بنانے، کمزور اور غیر فعال یونٹوں کی تنظیمی فعالیت بحال کرنے اور جماعتی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کی گئیں۔شرکا نے تحصیل اور یونٹ کی سطح پر تنظیمی سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھنے، باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرنے، ذمہ داران اور کارکنان کے درمیان مثر رابطہ قائم رکھنے، کارکنان کی فکری و تنظیمی تربیت اور جماعتی پروگراموں میں بھرپور شرکت یقینی بنانے پر زور دیا۔اجلاس میں اس امر پر بھی تاکید کی گئی کہ تحصیل و یونٹ کے تمام ذمہ داران اپنی ذمہ داریوں کو محض عہدے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے باقاعدہ جماعتی خدمت اور تنظیمی امانت سمجھتے ہوئے فعال کردار ادا کریں۔ امرا و نظما اپنے علاقوں میں جماعتی نظم مستحکم کرنے، کارکنان سے مسلسل رابطے میں رہنے، مجلسِ عاملہ، مجلسِ عمومی اور مجلسِ شوری کے اجلاس دستور کے مطابق بروقت منعقد کرنے، تنظیمی امور کی بروقت تکمیل اور ضلعی جماعت کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس اور دیگر ذمہ داران نے کہا کہ ملک و قوم پر مسلط حکمران حکمت اور بصیرت سے محروم ہیں، ان کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملک و قوم مسلسل مصائب اور مشکلات سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں میں درپیش مسائل اور سنگین بحرانوں کے حل کی صلاحیت نظر نہیں آتی، جبکہ ملک کو اس وقت سنجیدہ، باصلاحیت اور دوراندیش قیادت کی ضرورت ہے۔مقررین نے کہا کہ جمعیت علما اسلام کی قیادت ملک کے فکری و نظریاتی اثاثے کی محافظ ہے اور جماعت اپنی دینی، ملی اور قومی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ موجودہ حالات میں جماعتی صفوں کو منظم، فعال اور مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے تمام سطح کے ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے جماعتی نظم کے استحکام، کارکنان کی مثر رہنمائی اور تنظیمی سرگرمیوں میں تسلسل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں تاکہ جماعت کو نچلی سطح تک مزید مضبوط اور متحرک بنایا جاسکے۔
