شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری، صلاح الدین نورزئی کا قتل ریاست پر سوالیہ نشان ہے: سینیٹر کامران مرتضیٰ

بیٹے کی گمشدگی کے بعد باپ کا بہیمانہ قتل انتہائی تشویشناک، قاتلوں کو فی الفور قانون کے کٹہرے میں لایا جائے: صدر جمعیت وکلا فورم


کوئٹہ/اسلام آباد(ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت وکلا فورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے ممتاز تاجر صلاح الدین نورزئی کے بہیمانہ قتل پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ نوٹس لیتے ہوئے قتل میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مقتول کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائیاپنے ایک بیان میں سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے کہا کہ صلاح الدین نورزئی کا بہیمانہ قتل انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعہ ہے، جس نے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی شہری کا اس طرح بے دردی سے قتل ہوجانا محض ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعث تشویش ہے انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل صلاح الدین نورزئی کا بیٹا لاپتہ ہوا اور اب باپ کو بھی قتل کردیا گیا، ایسے واقعات نے اہلِ خانہ کے دکھ اور کرب میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ایک ہی خاندان کو پہلے اپنے بیٹے کی گمشدگی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا اور اب خاندان کے سربراہ کو بھی المناک انداز میں قتل کردیا گیا، جس کی مکمل تحقیقات اور حقائق منظرعام پر لانا ضروری ہے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کریں اور معاشرے میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ اگر شہری اپنے گھروں، کاروبار اور روزمرہ زندگی میں خود کو محفوظ محسوس نہ کریں تو یہ صورتحال حکومت کی رِٹ اور ریاستی ذمہ داری کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے انہوں نے کہا کہ صلاح الدین نورزئی کا قتل ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ امن و امان کی مجموعی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لانا انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور عدم تحفظ کا خاتمہ ہوسکے مرکزی صدر جمعیت وکلا فورم پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صلاح الدین نورزئی کے قتل کا فوری نوٹس لیا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور تمام دستیاب شواہد کی روشنی میں قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کا تعین کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقتول کے خاندان کو انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی صورت میں اس واقعے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہییسینیٹر کامران مرتضی نے مزید کہا کہ صلاح الدین نورزئی کے ایک سال سے لاپتہ بیٹے کی بازیابی کے لیے بھی مثر اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان پہلے ہی طویل عرصے سے اپنے لاپتہ فرد کی واپسی کا منتظر ہے، لہذا متعلقہ ادارے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے لاپتہ نوجوان کا سراغ لگائیں اور اہلِ خانہ کو اس حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کریں انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں شہریوں کو اس طرح عدم تحفظ کا شکار نہیں چھوڑا جاسکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اور مثر اقدامات کرے، امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور تاجروں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کاروباری طبقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہونا نہ صرف شہری زندگی بلکہ معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ حکومت کو تاجروں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر متاثرہ خاندان کے زخم مزید گہرے کرتی ہے، اس لیے صلاح الدین نورزئی کے قتل کے ملزمان کی گرفتاری اور تحقیقات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے آخر میں سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے مرحوم صلاح الدین نورزئی کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی لاپتہ بیٹے کی جلد بازیابی کے اسباب پیدا فرمائے اور اہلِ خانہ کو انصاف فراہم ہو۔ آمین۔

WhatsApp
Get Alert