سیکیورٹی کے نام پر پورے شہر کو یرغمال بنانا ناقابل قبول ہے، شہریوں کو گھنٹوں روکنا ظلم ہے: قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ

مریضوں، ڈاکٹرز، وکلا اور صحافیوں کے ساتھ توہین آمیز رویہ اور ہسپتال کے راستے بند کرنا سراسر ناانصافی ہے


تربت میں سڑکوں کی طویل بندش اور مبینہ بدسلوکی کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے
تربت(ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ نے تربت شہر میں سیکیورٹی کے نام پر آئے روز سڑکوں کی بندش، شہریوں کو گھنٹوں روکنے اور عوام کے ساتھ مبینہ ناروا و توہین آمیز رویے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی یقینی بنانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، تاہم سیکیورٹی کے نام پر پورے شہر کو یرغمال بنانا اور عام شہریوں کو مسلسل مشکلات و اذیت میں مبتلا رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تربت میں سیکیورٹی انتظامات کے باعث آئے روز اہم شاہراہیں اور راستے بند کر دیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہری گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلا بروقت عدالتوں میں نہیں پہنچ پاتے، سائلین اپنی پیشیوں سے محروم رہ جاتے ہیں، طلبہ اور سرکاری ملازمین متاثر ہوتے ہیں، جبکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کو ہسپتال پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر سیکیورٹی انتظامات کے لیے کسی سڑک کی بندش ناگزیر ہو تو شہریوں کے لیے متبادل راستے فراہم کرنا، ٹریفک کو منظم رکھنا اور لوگوں کو کم سے کم وقت کے لیے روکنا انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے تربت میں شہریوں کی مشکلات اور بنیادی ضروریات کو سیکیورٹی انتظامات میں خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال جانے والے مریض، ایمبولینسز، ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کسی سیکیورٹی خطرے کا حصہ نہیں ہوتے۔ ایک مریض کو بروقت ہسپتال پہنچنے سے روک دینا یا کسی ڈاکٹر کو ڈیوٹی پر پہنچنے کے لیے گھنٹوں سڑک پر کھڑا رکھنا سیکیورٹی نہیں بلکہ شہری زندگی کے ساتھ ناانصافی ہے۔قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ نے جمعرات کے روز ڈاکٹروں کے ساتھ مبینہ نازیبا اور ناشائستہ سلوک کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف اپنی جانفشانی سے مریضوں کی خدمت کرتے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ بدتمیزی اور توہین آمیز رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحائی کے شعبے سے وابستہ افراد کی تضحیک دراصل انسانی خدمت کی توہین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تربت پریس کلب کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا رویہ اختیار کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جبکہ بزرگ شہریوں کو بھی سڑکوں پر روک کر مشکلات اور مبینہ توہین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک بزرگ شہری، مریض، ڈاکٹر، وکیل یا صحافی کو بلاوجہ گھنٹوں روک دینا واقعی سیکیورٹی کا لازمی تقاضا ہے؟قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق کو مسلسل معطل نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی اداروں کو سیکیورٹی اور شہری آزادیوں کے درمیان ایک مؤثر اور متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ عوام کو سہولت فراہم کرنا اور ان کی عزتِ نفس کا تحفظ بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ وکلا سیکیورٹی انتظامات کے مخالف نہیں، تاہم سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کے طریقہ کار کی ضرور مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مخصوص مقام پر سیکیورٹی خدشات موجود ہیں تو پورے شہر کے شہریوں کو گھنٹوں روکنے کے بجائے جدید، مؤثر اور بہتر سیکیورٹی حکمت عملی اپنائی جائے۔قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ تربت میں سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں کی بار بار اور طویل بندش کا فوری نوٹس لیا جائے، شہریوں کے لیے متبادل راستے کھلے رکھے جائیں اور ایمبولینسز، مریضوں، ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، وکلا، صحافیوں اور بزرگ شہریوں کو بلاوجہ نہ روکا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور توہین آمیز رویے کے واقعات کی تحقیقات کرکے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ امن و سیکیورٹی کے نام پر عوام کو اعتماد میں لینے کے بجائے اگر انہیں مسلسل مشکلات، تذلیل اور خوف کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے سیکیورٹی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی عوام کے لیے ہے، عوام سیکیورٹی انتظامات کے لیے نہیں۔

WhatsApp
Get Alert