صدر مملکت کی جانب سے صوبائی وزیر کو سیاسی ذمہ داری سونپے جانے پر پیپلز پارٹی بلوچستان میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کا اپنے ہی پارلیمانی لیڈر کے خلاف کھل کر سامنے آنا بلوچستان کی سیاست میں غیر معمولی پیش رفت


پارلیمانی لیڈر کے طرزِ عمل کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور، حکمران جماعت کی صفوں میں دراڑیں واضح
کوئٹہ (قدرت روزنامہ) صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے بلوچستان میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیر کو مبینہ طور پر دی گئی سیاسی ذمہ داری پارٹی کے اندر جاری اختلافات میں اضافے کا باعث بن گئی، جبکہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی اپنے ہی پارلیمانی لیڈر کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کے طرزِ عمل کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کرلی گئی۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے اندرونی سطح پر اختلافات موجود تھے، تاہم صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے صوبائی سطح پر بعض سیاسی معاملات کے حوالے سے ایک صوبائی وزیر کو مبینہ طور پر اہم ذمہ داری سونپے جانے کے بعد صورتحال میں مزید شدت آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سیاسی ذمہ داری پر عملدرآمد کے دوران پارٹی کے اندر موجود اختلافات نمایاں ہوگئے اور متعدد صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی نے اپنے ہی پارلیمانی لیڈر کے کردار، طرزِ عمل اور بعض سیاسی معاملات پر تحفظات کا اظہار شروع کردیا۔معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی نے پارلیمانی لیڈر کے خلاف کھل کر آواز بلند کی اور ان کے طرزِ عمل پر اعتراضات اسمبلی کے فلور تک پہنچ گئے۔ بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی گئی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر اختلافات اب محض اندرونی مشاورت تک محدود نہیں رہے بلکہ حکمران جماعت کی پارلیمانی صفوں میں بھی اس کے اثرات واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ ایک ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کا اپنے پارلیمانی لیڈر کے خلاف متحد ہوکر سامنے آنا پیپلز پارٹی بلوچستان کے لیے اہم سیاسی صورتحال قرار دی جارہی ہے۔سیاسی حلقوں کے مطابق پیپلز پارٹی بلوچستان میں پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال نے صوبائی حکومت کے اندرونی معاملات اور پارٹی کی پارلیمانی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکمران اتحاد میں شامل جماعت کے ارکان اسمبلی کی جانب سے اپنے ہی پارلیمانی لیڈر کے خلاف کھل کر مقف اختیار کرنا غیر معمولی سیاسی پیش رفت ہے، جس کے مستقبل میں پارٹی کی صوبائی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پارٹی کے اندر جاری اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی بلوچستان کی پارلیمانی صفوں میں پیدا ہونے والی صورتحال پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی ردعمل اور پیش رفت سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert