بلوچستان اسمبلی: غیر قانونی ٹرالنگ، اندرون ملک پروازوں، منشیات کے خاتمے، بحالی مراکز اور کینسر اسپتال کے قیام کی قراردادیں منظور


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیرِ صدارت ایک گھنٹے کی تاخیر سے منعقد ہوا، جس میں غیر قانونی ٹرالنگ، اندرون ملک فضائی رابطوں، منشیات کے خاتمے، کینسر کے علاج، سندھ میں پشتون تاجروں کے خلاف کارروائیوں اور دیگر امور سے متعلق قراردادیں پیش کرکے منظور کر لی گئیں。
اجلاس کے دوران محکمہ ماہی گیری میں غیر قانونی ٹرالنگ کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے پیش کیا، جبکہ پارلیمانی سیکرٹری برکت رند نے بتایا کہ 20 سے زائد ٹرالر پکڑے گئے ہیں。 رکن اسمبلی اسد اللہ بلوچ نے پنجگور، خضدار، دالبندین اور ژوب سے اندرون ملک پروازیں چلانے کی قرارداد پیش کی جو منظور کر لی گئی。 اس کے علاوہ اصغر علی ترین کی پیش کردہ سندھ میں پشتون تاجروں کے خلاف کارروائیوں کی تحقیقات اور مولانا ہدایت الرحمن کی منشیات کے خاتمے و بحالی مراکز کے قیام سے متعلق قراردادیں بھی منظور ہوئیں。 سید ظفر آغا کی قرارداد پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ کینسر کے 250 بستروں کے اسپتال کے لیے مشینری جلد منگوا کر اسے فعال کر دیا جائے گا。
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی کے خلاف صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے منظور کر لیا。 وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، فرح عظیم شاہ اور بخت محمد کاکڑ نے بھی اس پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ میر صادق عمرانی نے اپنے موقف کا دفاع کیا。 بعد ازاں اسپیکر نے صادق عمرانی کے متنازع الفاظ اسمبلی کی کارروائی سے حذف کرا دیے。 وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے انسداد دہشت گردی بلوچستان ترمیمی مسودہ قانون بھی ایوان میں پیش کیا، جسے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی مخالفت اور قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کے مطالبے کے باوجود رائے شماری کے بعد منظور کر لیا گیا。 ہنگامہ خیز کارروائی کے بعد اسپیکر نے اجلاس 5 ستمبر کو سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا。

WhatsApp
Get Alert