سونا اچانک سستا ہوگیا، بڑی وجہ سامنے آگئی

کراچی (قدرت روزنامہ)امریکا میں توقعات سے بہتر روزگار کے اعدادوشمار کے بعد رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دباؤ کا شکار ہوگئی۔
پیر کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,405.47 ڈالر فی اونس پر آگئی جبکہ دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 4,452.20 ڈالر فی اونس پر آگئے۔ گزشتہ جمعہ کو بھی سونے کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
مضبوط روزگار رپورٹ نے شرح سود کے خدشات بڑھا دیے
امریکی اعدادوشمار کے مطابق اگست میں روزگار میں اضافہ توقعات سے کہیں زیادہ رہا، جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد پر برقرار رہی۔ مضبوط لیبر مارکیٹ کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس اور شرح سود کے ممکنہ فیصلے پر مرکوز ہوگئی ہے۔
CME FedWatch ٹول کے مطابق مارکیٹ میں 15 اور 16 ستمبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھائے جانے کا امکان 58.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
تاہم مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق روزگار کی رپورٹ اکیلے شرح سود میں اضافے کے لیے کافی نہیں، اس حوالے سے رواں ہفتے جاری ہونے والے مہنگائی کے اعدادوشمار زیادہ اہم ہوں گے۔
مہنگائی کی اہم رپورٹس کا انتظار
سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکا کے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) اور کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) پر ہیں۔ PPI رپورٹ جمعرات جبکہ CPI جمعہ کو جاری کی جائے گی۔
اگر مہنگائی کے اعدادوشمار توقعات سے زیادہ مضبوط آئے تو شرح سود میں اضافے کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں، جس سے امریکی بانڈ ییلڈز میں اضافہ اور سونے کی قیمت پر اضافی دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب کمزور مہنگائی کی صورت میں شرح سود میں اضافے کی توقع کم ہوسکتی ہے، جس سے سونے کو دوبارہ سہارا ملنے کا امکان پیدا ہوگا۔
شرح سود اور سونے کی قیمت میں کیا تعلق ہے؟
سونے کو معاشی غیر یقینی اور مہنگائی کے دوران ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس سے باقاعدہ سود یا منافع حاصل نہیں ہوتا۔ شرح سود بڑھنے کی صورت میں بانڈز اور دیگر منافع بخش اثاثے سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً زیادہ پرکشش ہوجاتے ہیں، جس سے سونے کی طلب متاثر ہوسکتی ہے۔
اسی وجہ سے امریکی معاشی اعدادوشمار اور شرح سود سے متعلق توقعات عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی بھی اہم عنصر
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی مہنگائی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں، جو مرکزی بینکوں کی آئندہ پالیسی کے لیے اہم عنصر بن سکتے ہیں۔
دیگر قیمتی دھاتیں بھی سستی
عالمی مارکیٹ میں دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ چاندی 0.2 فیصد کمی کے بعد 66.03 ڈالر، پلاٹینم 0.8 فیصد کمی کے بعد 1,805.53 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 0.7 فیصد کمی کے بعد 1,396.08 ڈالر فی اونس پر آگیا۔
رواں ہفتہ سونے کے لیے اہم
ماہرین کے مطابق امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار سونے کی آئندہ سمت کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔ مہنگائی میں تیزی شرح سود میں اضافے کے امکانات کو تقویت دے سکتی ہے، جبکہ کمزور اعدادوشمار سونے کی قیمت کو دوبارہ سہارا دے سکتے ہیں۔
یوں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت اس وقت امریکی معیشت، مہنگائی اور شرح سود کی توقعات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے بھی متاثر ہورہی ہے

WhatsApp
Get Alert