کوئٹہ میں ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسائل برقرار، ہائیکورٹ کا متعلقہ محکموں کی محض کاغذی رپورٹس پر شدید اظہار تشویش

سابقہ احکامات کے باوجود کوئٹہ کے روٹس پر پرانی لوکل بسیں تاحال رواں دواں ہیں، عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے: ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن


موٹر رکشوں کے متبادل الیکٹرک وہیکلز، لوکل بس اسٹینڈ اور وکلاء کے لیے ٹرانسپورٹ اسکیم کی تفصیلی رپورٹس آئندہ سماعت پر پیش کی جائیں: بلوچستان ہائیکورٹ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) 7 ستمبر ۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، لوکل بسوں، رکشوں اور ٹریفک کے مسائل سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور بلوچ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو شکیل احمد، درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ محترمہ انعم خیر، میونسپل کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) کے وکیل محمد اکرم شاہ، ڈی جی کیو ڈی اے اورنگ زیب کاسی، اربن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون و ضوابط) کلیم اللہ اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔جنرل سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) کوئٹہ ڈویژن نے عدالت میں پیشرفت رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے فیڈر روٹس پر 27 الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی، کوئٹہ کے لیے 2 الیکٹرک بسوں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے 10 ڈیزل بسوں کی فراہمی، وکلاءکے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم، سریاب روڈ پر لوکل بس اسٹینڈ کے لیے زمین کی منتقلی، کوئٹہ۔کچلاک روٹ پر کوسٹر کے اجازت نامے، غیر قانونی اور مقررہ تعداد سے زائد رکشوں کے خلاف کارروائی سمیت 9,451 دستی رکشہ پرمٹس کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے وکیل کو پیشرفت رپورٹ کی نقل بھی فراہم کر دی گئی ہے۔سماعت کے دوران ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عطا اللہ لانگو نے عدالت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ عدالت کی سابقہ ہدایات کے باوجود کوئٹہ کے مرکزی اور فیڈر روٹس پر لوکل بسیں بدستور چل رہی ہیں، جو عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ، پشین اور خضدار کے وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کے تحت 2 ڈیزل بسیں، 2 گلابی وینز، 2 الیکٹرک شٹل کارٹس اور 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز مختص کی گئی ہیں، تاہم اس منصوبے پر تاحال خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ خواتین وکلاءکے لیے مختص 100 پنک الیکٹرک اسکوٹیز بمعہ ہیلمٹس موصول ہو چکی ہیں، تاہم وکلاءکے لیے مختص دیگر ٹرانسپورٹ سہولیات کے حوالے سے عملی اقدامات تاحال مکمل نہیں کیے گئے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ سریاب روڈ پر پرانے اکٹرائی گودام کے مقام پر لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص اراضی تاحال کمشنر/چیئرمین ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور سیکریٹری آر ٹی اے کو منتقل نہیں کی گئی، جس کے باعث منصوبے پر عملی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو شکیل احمد نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کا منصوبہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کیا گیا تھا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 1 ارب 235.300 ملین روپے مختص کیے گئے تھے۔ تاہم عدالت کے مشاہدات کے بعد منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو تفویض کیا گیا اور اس پر نظرثانی کرتے ہوئے لاگت 595.720 ملین روپے کر دی گئی، جو حتمی فیصلے کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں زیرِ غور ہے۔درخواست گزار نے ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت کی واضح ہدایات کے باوجود کوئٹہ شہر اور نواحی علاقوں میں ٹریفک کی صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی، جبکہ متعلقہ سرکاری محکمے عملی اقدامات کے بجائے محض رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔عدالت نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ سیکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ کے دستخطوں سے درج ذیل امور پر جامع رپورٹس آئندہ سماعت پر عدالت میں جمع کرائی جائیں:ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص اراضی کی منتقلی کی موجودہ صورتحال۔کوئٹہ شہر میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر الیکٹرک وہیکلز کی فراہمی اور منصوبے کی موجودہ حیثیت۔وکلاء کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کی منظوری اور اس پر ہونے والی عملی پیشرفت۔عدالت نے سیکریٹری آر ٹی اے کو مزید ہدایت کی کہ کوئٹہ شہر کے کسی بھی علاقے میں پرانی اور ناکارہ بسوں کے چلائے جانے سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے متعلقہ افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی۔عدالتی حکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ اسے متعلقہ حکام تک پہنچا کر عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert