صوبوں سے متعلق حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے، انہیں مذاکرات میں شامل کرنا ضروری ہے، سلمان اکرم راجہ

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے صوبوں سے متعلق حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے اور کسی بھی مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کو شامل کرنا ضروری ہے۔ کراچی کے مستقبل کے حوالے سے موجودہ بحث غیر مؤثر اور موقع پرستانہ ہے، کراچی کے مسائل وفاقی کنٹرول میں دینے سے حل نہیں ہوں گے۔

سلمان اکرم راجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس ‘‘پر اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مؤقف ہے کہ صوبوں کے بارے میں حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے، اس لیے انہیں مذاکرات میں لازماً شامل کیا جانا چاہیے۔کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے سے شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے، اسلام آباد کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے۔ کراچی کے عوام نے 2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی کی 21 نشستوں اور سندھ اسمبلی کی 40 سے زائد نشستوں پر کامیاب کیا، تاہم ان نشستوں سے کراچی کے عوام کو محروم کردیا گیا۔بلدیاتی انتخابات میں بھی انتخابی نتائج تبدیل کرنے کے لیے اسی طرز کی کارروائی کی گئی تاکہ کراچی کو بدعنوانی اور ناقص طرز حکمرانی کے شکنجے میں دیا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ کون ضمانت دے گا کہ کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کے بعد اسے کسی من پسند مافیا کے حوالے نہیں کیا جائے گا؟

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جب تک انتخابات کی ساکھ بحال نہیں ہوتی، حکومت کا کوئی بھی نظام عوامی نمائندگی کے بجائے جبری دھوکے کے مترادف ہوگا۔ پی ٹی آئی ہمیشہ بااختیار بلدیاتی حکومتوں کی حمایت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ کراچی کو ایک صاف، بااختیار اور اہل حکومت کی ضرورت ہے جسے کراچی کے عوام خود منتخب کریں۔انہوں نے نئے صوبے بنانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 239(4) کو ختم کرنے کی تجویز پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کی بنیادوں کو نقصان پہنچائے گا اور ملک کو مزید کمزور و غیر مربوط ریاست بنا دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 239(4) کو 1973 میں تمام وفاقی اکائیوں کی رضامندی سے آئین کا حصہ بنایا گیا تھا، جس کے تحت کسی صوبے کی حدود یا تشکیل میں تبدیلی کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔ یہ شق پاکستان کے وفاقی سماجی معاہدے کی بنیادی ضمانت ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے سوال اٹھایا کہ جس پارلیمنٹ کے بارے میں پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ وہ دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئی، وہ آئین کے وفاقی ڈھانچے کو متاثر کرنے والی ترمیم کیسے منظور کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اصولی طور پر اسی پارلیمنٹ کی جانب سے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے حق کو بھی مسترد کر چکی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کوشش صوبے بھر میں شدید بے چینی پیدا کر سکتی ہے، جس کے اثرات کراچی سے بھی باہر نہیں رہیں گے۔ کراچی کے شہریوں کے لیے یہ صورتحال کسی بھی صورت موزوں نہیں کہ شہر خود کو ممکنہ بدامنی کے حصار میں گھرا ہوا پائے۔کراچی اور پورے پاکستان کے لیے دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ انتخابات میں شفافیت اور عوامی مینڈیٹ کی بحالی پر زور دیا جائے تاکہ عوام کی رائے حقیقی معنوں میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کرے۔2024 کے انتخابات میں کراچی کے عوام نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو مسترد کیا تھا، لیکن انتخابی نتائج میں مبینہ مداخلت کے ذریعے انہیں دوبارہ کراچی پر مسلط کیا گیا۔ جذبات، اصولوں اور زمینی حقائق کے ساتھ کھیلنے کے بجائے ملک کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھنا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert