عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے پر علیمہ خان پھٹ پڑیں، جیل میں کیمروں اور مانیٹرنگ کا بھی ذکر

راولپنڈی (قدرت روزنامہ) بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے آج منگل کا دن ہے ہم اپریل 2025 سے یہاں آرہے ہماری ملاقاتیں بند ہیں کبھی وقتاً فوقتاً کوئی ملاقات کروا دیتے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا جیل ٹرائل جب چل رہا تھا تو ملاقات ہوجاتی تھی لیکن اکتوبر سے عمران خان کو مکمل قید تنہائی میں ڈالا گیا ،عمران خان اس وقت مکمل فٹ تھے کوئی بیماری نہیں تھی،جب قید تنہائی میں ڈالا گیا تو پھر ان کی آنکھ میں کلاٹ آیا ۔ جیل میں ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ایجینسیاں مانیٹر کررہی ہوتیں وہ جانتے تھے عمران خان کو نظر نہیں آرہا لیکن جان بوجھ کر علاج میں تاخیر کی گئی۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ عمران خان نہیں ٹوٹ رہا ملک چھوڑ کے نہیں جارہا تو اس کو قید تنہائی میں ڈالا گیا۔
علیمہ خان نےمزید کہا 27 ستمبر کی جدوجہد کسی ایک دن تک محدود نہیں ہوگی، یہ تحریک جاری رہے گی۔ جب تک عمران خان آزاد نہیں ہوتے، ہماری آواز بھی سڑکوں پر بلند ہوتی رہے گی۔سب پرانے سسٹم پر چل رہے ہیں کہ 3 سے 4 بندے اِدھر سے اٹھا لو، کچھ اُدھر سے اٹھا لو۔ اب گرفتاری سے کوئی نہیں ڈرتا، سب تیار ہیں، سب کو گرفتار کر لیں.
