تربت کو یرغمال بنا دیا گیا ہے، انتظامیہ چوروں، ڈاکوؤں اور بھتہ خوروں کے سامنے مکمل بے بس ہے: ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

بارڈر ٹریڈ کی بندش اور ظالمانہ ٹیکسز مکران کے عوام کا معاشی قتل ہے، ہزاروں خاندان نانِ شبینہ کے محتاج ہوگئے: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان


سیاسی اور کاروباری اسپیس ختم کیا جا رہا ہے، عوام خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں، تمام سیاسی جماعتیں اور عوام سڑکوں پر نکلیں: نیشنل پارٹی
تربت (ڈیلی قدرت کوئٹہ) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ سیاسی و نظریاتی اختلافات اپنی جگہ، تاہم کیچ کی تمام سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر متحد ہیں۔ کیچ کے عوام پہلے ہی کئی سال سے مشکلات کا شکار ہیں، لیکن اب ان کے سیاسی، معاشی اور کاروباری مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کے حقِ حاکمیت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا، عوام کے نمائندے کوئی اور ہیں جبکہ نمائندے لائے کوئی اور جاتے ہیں، جس سے سیاسی عمل اور سیاسی اسپیس مزید محدود ہو رہی ہے۔یہ بات انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ مکران کے عوام کے آمدن کے بنیادی ذرائع زراعت، بارڈر ٹریڈ اور گلف ایریا سے وابستہ روزگار رہے ہیں۔ زمینداری پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہے جبکہ بارڈر ٹریڈ کو بھی مختلف ناموں اور جواز کے تحت بند کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے کاروباری طبقے سمیت ہزاروں خاندانوں کو معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے اور لوگ نانِ شبینہ کے محتاج ہو رہے ہیں۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ پر ٹیکسز اور دیگر پابندیوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے، جس سے عام اشیاء کی قیمتیں کئی گنا بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر سے تجارت کرنے والے افراد ان مسائل کی تفصیلات پریس کانفرنس میں سامنے لائیں گے کہ کس طرح اضافی ٹیکسز اور پابندیوں نے تجارت کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ کیچ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک رہی ہے۔ تقریباً روزانہ ڈکیتیوں اور وارداتوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے سری کہن میں ایک ہی روز متعدد دکانوں کے لوٹے جانے اور ایک شخص کے مبینہ اغوا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص کو اغوا کرنے کے باوجود ایف آئی آر میں اغوا کی دفعہ شامل نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جب انتظامیہ سے امن و امان کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو وہ بھی بے بسی کا اظہار کرتی ہے۔ اگر انتظامیہ اور متعلقہ ادارے چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں عوام کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ وہ بے بس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات شہری خود ملزمان کو پکڑ کر انتظامیہ کے حوالے کرتے ہیں، لیکن بعد ازاں انہیں دوبارہ چھوڑ دیے جانے کی شکایات سامنے آتی ہیں، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ سے وابستہ افراد کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی کاروباری طبقہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے والے افراد کو دھمکی آمیز ٹیلی فون کالز اور بھتہ طلب کرنے کے واقعات کا سامنا ہے۔ سرفراز میڈیکل اسٹور پر فائرنگ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دکاندار کو محفوظ رکھا، تاہم اسے مختلف نمبروں سے بھتہ طلب کرنے کے لیے ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں۔انہوں نے کاروباری افراد سے اپیل کی کہ وہ خوف سے باہر نکلیں اور بھتہ خوری یا دھمکی آمیز کالز کے واقعات کو سامنے لائیں تاکہ اس مسئلے کو اجتماعی طور پر اٹھایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک معمولی میڈیکل اسٹور چلانے والے شخص کو بھی مختلف ممالک سے دھمکی آمیز کالز موصول ہوں تو یہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ تربت شہر اور دیگر علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں چوری و ڈکیتی کے واقعات نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ تربت بازار میں بھی وارداتوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ مجموعی صورتحال یہ ہے کہ تربت کو یرغمال بنا دیا گیا ہے اور شہری خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گزشتہ دنوں تربت میں سڑکوں کی بندش اور کئی روز تک پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی آمدورفت محدود کردی گئی، ڈاکٹرز کو اسپتالوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں، میڈیا نمائندوں کو پریس کلب جانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ مریضوں اور عام شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ تربت سے کوئٹہ جانے والے راستوں اور شہریوں کی نقل و حرکت م…

WhatsApp
Get Alert