سول اسپتال کوئٹہ میں لاکھوں روپے کی ادویات کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیا ں ‘ اسٹور سے 22 کروڑ 82 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کی ادویات کے مبینہ طور پر غائب
9 ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کے باوجود محکمہ صحت حساب دینے سے گریزاں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا شدید اظہارِ برہمی

صرف ملازمین کی معطلی سے کام نہیں چلے گا، 15 روز میں ریکارڈ نہ ملا تو معاملہ احتسابی اداروں کو بھیج دیں گے: چیئرمین پی اے سی اصغر علی ترین
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی نے سنڈیمن صوبائی سول اسپتال کوئٹہ میں لاکھوں روپے کی ادویات کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مرکزی اسٹور سے 22 کروڑ 82 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کی ادویات کے مبینہ طور پر غائب ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔پی اے سی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین اصغر علی ترین نے کی، جس میں کمیٹی ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینڈمین صوبائی سول اسپتال کے مالی سال 2022-23 کے خصوصی آڈٹ سے متعلق آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2017-18 سے 2021-22 کے دوران اسپتال کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب 44 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص یا فراہم کیے گئے، جن میں سے 9 ارب 57 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، تاہم محکمہ صحت اور اسپتال انتظامیہ مکمل اخراجاتی حسابات اور مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔پی اے سی ارکان نے مقررہ وقت پر دستاویزات فراہم نہ کرنے اور سابقہ کمیٹی ہدایات پر مبینہ عملدرآمد نہ ہونے پر محکمہ صحت سے سخت برہمی کا اظہار کیا۔چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے محکمہ صحت کمیٹی کے سامنے صرف اپنا مقف پیش کررہا ہے جبکہ قواعد و ضوابط پر مناسب عملدرآمد نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ محکمہ صحت اسمبلی اور پی اے سی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔اجلاس میں 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ادویات کی خریداری سے متعلق آڈٹ پیرا کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خصوصی آڈٹ کے مطابق ادویات کی خریداری کے عمل میں متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق سپلائی آرڈر پشاور کی ایک فرم کے نام جاری کیا گیا جبکہ ادائیگی کوئٹہ کی ایک دوسری فرم کو کی گئی۔ آڈٹ میں سپلائی آرڈرز اور بلوں میں تضادات، اسٹاک رجسٹر میں اندراجات کی کمی اور ترسیلی چالان و معائنہ رپورٹس کی عدم دستیابی کی بھی نشاندہی کی گئی۔محکمہ نے بعد ازاں محکمانہ اکانٹس کمیٹی کو بتایا کہ پشاور کی فرم مینوفیکچرنگ ایجنسی جبکہ کوئٹہ کی فرم اس کی مجاز تقسیم کار تھی، تاہم تصدیق کے دوران مینوفیکچرر کی رضامندی، اسٹاک رجسٹر، ترسیلی چالان، معائنہ رپورٹس، ادویات کے بیچ نمبر اور دیگر مطلوبہ دستاویزات پیش نہیں کی جاسکیں۔پی اے سی چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مطلوبہ ریکارڈ، وضاحتیں اور معاون دستاویزات 15 روز کے اندر کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔کمیٹی نے مالی سال 2019-20 کے دوران اسپتال کے مرکزی اسٹور سے 22 کروڑ 82 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کی ادویات کے مبینہ طور پر غائب ہونے سے متعلق آڈٹ پیرا کا بھی جائزہ لیا۔خصوصی آڈٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری قواعد کے تحت اسٹور افسر حکومتی ادویات اور دیگر سامان کی حفاظت، ریکارڈ اور حساب کتاب کا ذمہ دار ہوتا ہے، تاکہ چوری، نقصان یا فراڈ کی روک تھام ہوسکے۔آڈٹ کے مطابق مرکزی اسٹور سے مذکورہ مالیت کی ادویات غائب پائی گئیں۔ انچارج فارماسسٹ کی جانب سے انتظامیہ کو معاملے سے آگاہ کیے جانے کے باوجود مسئلہ حل نہ کیا جاسکا، جبکہ ترسیلی چالان اور معائنہ کمیٹی کی رپورٹس بھی سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں تھیں۔محکمہ صحت نے ادویات کی کمی کی تردید کی، تاہم ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران اسٹاک کے توازن میں تضادات سامنے آئے جن کی کوئی تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کی گئی۔اصغر علی ترین نے کہا کہ محض ملازمین کو معطل کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال سے چیف سیکریٹری کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا جبکہ رپورٹ اور معاملہ بلوچستان اسمبلی کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی کہ دونوں آڈٹ پیراز سے متعلق تمام ریکارڈ، وضاحتیں اور ضروری دستاویزات 15 روز کے اندر پی اے سی کے سامنے پیش کی جائیں، بصورت دیگر معاملہ مزید قانونی کارروائی اور متعلقہ احتسابی اداروں کو بھیجنے کی سفارش کی جاسکتی ہے۔
