بلوچستان انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات بھلا کر ایک میز پر بیٹھنا ہوگا: ڈاکٹر مالک بلوچ’ مولانا عبدالواسع

وسائل پر صرف عوام کا حق ہے، مائنز اینڈ منرلز قانون سازی میں سیاسی اور قبائلی قیادت کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے


ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیرِ صدارت غیر معمولی آل پارٹیز اجلاس، صوبے کی بدامنی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر غور
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیرِ صدارت سینیٹر میر کبیر محمد شہی کی رہائش گاہ پر بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کا اہم اور غیر معمولی آل پارٹیز اجلاس ، جس میں صوبے کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال سمیت اہم صوبائی معاملات پر سنجیدہ اور تفصیلی مشاورت۔ اجلاس میں جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر حضرت مولانا عبدالواسع ، عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ زیرے، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے موسیٰ بلوچ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین اور نمائندگان شریک ہیں۔ اجلاس کے دوران بلوچستان میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال، عوام کو درپیش مشکلات، مائنز اینڈ منرلز کے متنازع بل، صوبے کے وسائل پر آئینی و عوامی اختیار، سیاسی و جمہوری حقوق، معاشی مسائل اور دیگر اہم صوبائی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے آئندہ کا مشترکہ اور متفقہ لائحہ عمل طے کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان اس وقت ایک انتہائی نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، صوبے میں بدامنی اور بے یقینی نے عوام کی زندگی، کاروبار، تجارت، تعلیم، روزگار اور معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، ایسے حالات میں سیاسی قیادت کا متحد ہوکر بلوچستان کے اجتماعی مفادات کے لیے آواز بلند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت، جبر اور محض انتظامی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، بامقصد مذاکرات، اعتماد سازی، آئین کی بالادستی اور عوام کی حقیقی شمولیت میں ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھ کر مسائل کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینا اور قابلِ عمل حل تلاش کرنا ہوگا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام کی امانت ہیں اور مائنز اینڈ منرلز سمیت صوبے کے وسائل سے متعلق کسی بھی قانون سازی میں بلوچستان کی سیاسی قیادت، منتخب نمائندوں، قبائلی عمائدین اور عوام کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے، ایسا کوئی فیصلہ یا قانون قابلِ قبول نہیں ہوسکتا جس سے صوبے کے آئینی حقوق، عوامی مفادات اور وسائل پر اختیار متاثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے عوام کے آئینی، سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور تمام معاملات کو آئینی، پارلیمانی اور جمہوری طریقے سے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کو سیاسی تقسیم، محاذ آرائی اور مزید انتشار کی نہیں بلکہ اتحاد، سیاسی تدبر، باہمی مشاورت اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے جماعتی اختلافات سے بالاتر ہوکر صوبے کے وسیع تر مفاد میں ایک متفقہ آواز بننا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کا قیام، عوام کے جان و مال کا تحفظ، صوبے کے وسائل پر آئینی حق، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، تجارت اور معیشت کا فروغ اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ بلوچستان کے ہر سیاسی کارکن اور ہر سیاسی جماعت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ آل پارٹیز اجلاس بلوچستان کے سیاسی شعور اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری کا مظہر ہے اور جمعیت علماء اسلام اس فورم پر ہونے والی ہر ایسی سنجیدہ اور آئینی کوشش کا حصہ بنے گی جس کا مقصد بلوچستان میں پائیدار امن، سیاسی استحکام، جمہوری بالادستی اور عوام کے جائز حقوق کا تحفظ ہو۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاقِ رائے کے لیے مشاورت جاری ہے کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور صوبے کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتیں آئندہ کس مشترکہ اور متفقہ حکمتِ عملی کے تحت اپنا کردار ادا کریں گی۔

WhatsApp
Get Alert