سعودی عرب کے حوثیوں پر فضائی حملے، یمنی افواج کا باغیوں کے 5 ڈرونز گرانے کا دعویٰ

سعودی عرب (قدرت روزنامہ)سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ دو دنوں کے دوران انصار اللہ المعروف حوثیوں کے زیرِ قبضہ جنوبی، وسطی اور شمالی صوبوں میں واقع مختلف مواضع پر پے در پے فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ یم،ن کی سرکاری افواج نے حوثی باغیوں کے پانچ ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمن کے حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ”سعودی طیاروں“ نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران یمن کے سات صوبوں پر 129 فضائی حملے کیے ہیں۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں میں جنسیوب مغرب میں واقع تعز، مشرق میں مأرب، مغرب میں الحدیدہ، شمال مشرق میں الجوف، شمال میں صعدہ، شمال میں عمران اور شمال مغرب میں حجہ کے صوبوں کو نشانہ بنایا گیا، اور انہوں نے ان حملوں کا بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمنی سرکاری افواج کے لیے اہم ساحلی شہر المخا کے قریب کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا آسان دکھائی نہیں دے رہا، اس لیے وہ صرف انہی علاقوں پر فضائی بمباری کر رہی ہیں جہاں سے حوثیوں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کے زیرِ اثر علاقوں میں مأرب کا شہر اقتصادی مرکز سمجھا جاتا ہے اور جو اس پر کنٹرول حاصل کر لے وہ یمن کی آمدنی کے ذرائع پر قابض ہو جاتا ہے، تاہم حوثی اب تک اس شہر کو تسخیر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس دوران یمن کے دارالحکومت صنعاء کے شمال مشرق میں واقع مأرب کے بیرونی علاقوں میں شدید جڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جبکہ ملک کے جنوبی صوبے تعز میں حوثی جنگجوؤں کے گڑھ اور عسکری اجتماع پر بمباری کی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حوثی جنگجو خاموشی سے زمین پر قبضہ کرنے، زیرِ زمین بنکرز قائم کرنے اور پھر سعودی فضائی حملوں سے بچنے کے لیے علاقے کو خالی کر دینے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی فوجی ریزرو ہوم لینڈ شیلڈ فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ال اغبرہ کے علاقے میں جاری جھڑپوں کے دوران حوثیوں کے پانچ ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

یمنی مسلح افواج سے وابستہ ’ستمبر نیٹ‘ ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ فضائی فورسز نے ملک بھر میں حوثی اہداف پر کامیابی کے ساتھ کئی فضائی حملے کیے ہیں جن میں عسکری سامان اور گولہ بارود کو تباہ کرنے کے ساتھ کئی جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے، تاہم ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

WhatsApp
Get Alert