اسٹیبلشمنٹ بندے پورے کرلے تو بس حکم کریں، نئے صوبوں پر ن لیگی مؤقف بارے منصور علی خان کا دعویٰ


لاہور (قدرت روزنامہ) سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار منصور علی خان نے مسلم لیگ ن کے ایک اہم رہنماء کے ساتھ ہونے والی پس پردہ گفتگو اور حکومتی شخصیات کے شاہانہ طرزِ زندگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اہم انکشافات کردیئے۔ منصور علی خان کے مطابق ن لیگ کے ایک اہم رہنماء نے غیر رسمی گفتگو میں دوٹوک مؤقف اپنایا کہ انہیں نئے صوبوں کے قیام سے کوئی بنیادی اعتراض نہیں ہے، لیکن پارٹی اس معاملے پر سیاسی صف بندی یا دوسری جماعتوں کو منانے کی مشقت نہیں اٹھائے گی، لیگی رہنما کا کہنا تھا یہ اسٹیبلشمنٹ کا پروجیکٹ ہے اور وہی سب کو منائے، جب وہ ہندسے اور بندے پورے کر لے تو بس ہمیں آ کر حکم کریں، ہم ہاں کر دیں گے۔

حکومتی ترجمانوں بالخصوص عظمیٰ بخاری کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کے کراچی دورے پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے کوئی سرکاری جہاز استعمال نہیں کیا تھا، وہ عام ڈومیسٹک کمرشل فلائٹ پر گئے تھے، جن کے بورڈنگ پاسز اور ٹکٹیں سب کے سامنے آ چکی ہیں، حکمران عوام کو تو سادگی اور کفایت شعاری کے درس دیتے ہیں، لیکن خود سرکاری جہازوں پر انٹرنشینل دورے فرماتے ہیں۔
منصور علی خان نے کہا کہ مریم نواز اگر کمرشل فلائٹ لے کر انگلینڈ چلی جاتیں تو کون سی قیامت آ جاتی؟ عوام کو کفایت شعاری کا درس دیتے ہیں، پٹرول مہنگا ہو تو موٹروے پر 100 کی اسپیڈ لمٹ لگا دیتے ہیں، عوام کو بچت پر لگا دیا اور خود شاہانہ خرچے کرتے ہیں، عظمیٰ بخاری دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی وزیراعلیٰ کے غیر ملکی سرکاری جہازوں کے دوروں کا حساب بھی قوم کو دیں۔

WhatsApp
Get Alert