موٹر سائیکل سواروں کیلئے دوبارہ 2 ہزار روپے ماہانہ ریلیف کا فیصلہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد حکومت نے بظاہر مرہم رکھنے کے لیے موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ تقریباً 2 ہزار روپے معاوضہ دینے کی منظوری دے دی۔ ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق یہ ریلیف اسکیم ابتدائی طور پر 3 ماہ کے لیے ہوگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اس میں توسیع مشروط ہے، تاہم موجودہ مہنگی قیمتوں میں 2 ہزار روپے کا یہ ریلیف ماہانہ صرف 5 لیٹر پیٹرول کے برابر بنتا ہے، جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین اس ریلیف سے محروم ہیں، جس سے مہنگائی کا دباؤ کم نہیں ہوگا۔
Despite fiscal space, Govt did not reduce petroleum levy!
The government has decided to offer a paltry monthly compensation to motorcyclists, as the finance ministry has again turned down a suggestion by some cabinet ministers to cut petroleum levy and utilise a Rs430 billion…
— Shahbaz Rana (@81ShahbazRana) September 13, 2026
بتایا گیا ہے کہ حکومت اس وقت پیٹرول پر 106 روپے یعنی 28 فیصد اور ڈیزل پر 101 روپے یعنی 25 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے، اس سے جہاں ایک طرف عوام مشکلات کا شکار ہیں تو دوسری طرف حکومتی ہٹ دھرمی کے عجیب اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وزارتِ پیٹرولیم کی تجویز تھی کہ لیوی کرکے کمی کو 430 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز سے پورا کیا جائے لیکن وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کا جواز بنا کر اس سے انکار کر دیا۔
معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ مالی سال 389 ارب کے ہنگامی فنڈز میں سے 276 ارب خرچ اور 113 ارب روپے بچائے گئے، پیٹرولیم لیوی کی مد میں 100 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے، مجموعی طور پر 213 ارب روپے دستیاب تھے جو ریلیف کے لیے استعمال ہو سکتے تھے مگر عوام کی جبیں کاٹنے کو ترجیح دی گئی، جماعت اسلامی کے 20 ستمبر کے متوقع لانگ مارچ سے پہلے یہ 2 ہزار روپے کا اعلان سیاسی دباؤ کم کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
