سونا مزید سستا ہوگا یا پھر مہنگا؟ عالمی مارکیٹ سے بڑی خبر آ گئی

کراچی (قدرت روزنامہ)مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی ترسیل اور سپلائی کو درپیش بڑھتے خطرات نے عالمی منڈیوں میں مہنگائی کے خدشات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات مضبوط ہونے اور سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھنے لگا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق سونا تقریباً 4,300 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ کرتا دیکھا گیا جبکہ گزشتہ سیشن میں اس کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ کمی ہوئی اور یہ تقریباً پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔
عالمی منڈی میں سونے کے لیے سب سے بڑا دباؤ اس وقت امریکی شرح سود کے ممکنہ راستے سے پیدا ہورہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے سے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں عالمی افراطِ زر کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
تازہ مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل تقریباً 106.96 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 102.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں نے امریکی بانڈ ییلڈز اور ڈالر کو بھی سہارا دیا ہے، جس سے سونے سمیت غیر منافع بخش اثاثوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی 15 اور 16 ستمبر کو ہونے والی پالیسی میٹنگ سے قبل مارکیٹ میں شرح سود بڑھنے کے امکانات تیزی سے بڑھے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ماہرین اقتصادیات کی اکثریت اب 25 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع کر رہی ہے، جس کے بعد فیڈرل فنڈز ریٹ 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں آسکتا ہے۔
مارکیٹ میں شرح سود میں اضافے کا امکان تقریباً 93 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ چند روز قبل یہ توقع اس سے خاصی کم تھی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، افراطِ زر کے دباؤ اور امریکی معاشی اعداد و شمار میں مضبوطی نے سرمایہ کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ فیڈرل ریزرو مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرسکتا ہے۔
سونے کے لیے بلند شرح سود اس لیے منفی سمجھی جاتی ہے کہ سونا کوئی باقاعدہ سود یا منافع ادا نہیں کرتا۔ جب امریکی شرح سود اور بانڈ ییلڈز بڑھتی ہیں تو سرمایہ کار ایسے مالیاتی اثاثوں کو ترجیح دے سکتے ہیں جہاں انہیں شرحِ منافع حاصل ہو، جس کے نتیجے میں سونے کی طلب اور قیمت پر دباؤ آسکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں امریکی ڈالر بھی مضبوط ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی ٹریژری ییلڈز بڑھنے کے باعث ڈالر دو ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 5 فیصد سے تجاوز کرگئی۔
مارکیٹ کی موجودہ صورتحال میں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ عام طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی خطرات سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سہارا دیتے ہیں، تاہم اس مرتبہ تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں نے مہنگائی اور شرح سود کے خدشات کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ شرح سود کا اثر سونے کی محفوظ اثاثے والی حیثیت پر غالب آتا دکھائی دے رہا ہے۔
عالمی سرمایہ کار اب فیڈرل ریزرو کے فیصلے کے ساتھ ساتھ چیئرمین کے آئندہ مالیاتی پالیسی کے اشاروں پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ اگر فیڈ مزید شرح سود میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے تو ڈالر اور بانڈ ییلڈز میں مزید مضبوطی سونے کیلئے اضافی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ نرم پالیسی کے اشارے سونے کو دوبارہ سہارا دے سکتے ہیں۔
