ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے دونوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق اسپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرلیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک دی جارہی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے دونوں درخواست گزاروں کی سزائیں معطل کرکے رہائی کا حکم دیتے ہوئے 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ضمانتیں منظور کیں۔
دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے خلاف ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں وکیل ہیں ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں،وکیل اور عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔
گرفتاریوں کا پس منظر
ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں 17، 17 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔
دونوں کو 23 جنوری 2026 کو باقاعدہ گرفتار کیا گیا تھا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ایف آئی آر میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور پاک فوج پر سنگین الزامات لگائے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کا ذمہ دار سکیورٹی فورسز کو ٹھہرایا اور فوج کو بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے کالعدم گروہوں کے خلاف غیر مؤثر ظاہر کیا۔ مقدمہ پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج ہوا تھا۔
سپریم کورٹ میں گزشتہ سماعت کا احوال
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستوں کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔
21 اگست کو سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے، جس کی سربراہی جسٹس نعیم اختر افغان کر رہے تھے، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دائر جلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کی تھی۔سپریم کورٹ نے دونوں درخواستوں پر سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی تھی۔
درخواست گزاروں نے اپنی درخواستوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 19 فروری 2026 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں دونوں کی 17، 17 سال قید کی سزاؤں کو معطل کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت دے چکی ہے کہ سزا معطلی کی درخواستوں پر 2 ہفتوں کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ سماعت کے لیے آنے کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواستیں بار بار مقرر ہوتی رہی ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا مؤقف
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقدمات مقرر کرنے کا اپنا نظام موجود ہے اور اسی نظام کے مطابق کیسز سماعت کے لیے مقرر کیے جا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اس موقع پر نوٹ کیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی سالانہ تعطیلات 6 ستمبر کو ختم ہوجائیں گی جس کے بعد عدالت میں معمول کی کارروائی دوبارہ شروع ہوگی۔
حکومت کے وکیل نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ سزا معطلی کی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔
