خیبر پختونخوا کے 97 ارب روپے کے شہری ترقیاتی منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات، نیب نے 3 ٹھیکیدار اداروں کو طلب کرلیا

پشاور(قدرت روزنامہ)خیبر پختونخوا کے شہروں کی بہتری کے تقریباً 97 ارب روپے کے منصوبے میں بڑے پیمانے پر مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں، نیب نے تحقیقات کے سلسلے میں 3 ٹھیکیدار اداروں کے نمائندوں کو 22 ستمبر کو طلب کرلیا۔
نیب کی تحقیقات میں منصوبے سے متعلق بینک کھاتوں، ادائیگیوں اور دیگر مالی ریکارڈ کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ ٹھیکیدار اداروں تک پہنچ گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے بڑے شہری ترقیاتی منصوبے میں مالی معاملات، خریداری کے طریقہ کار اور ٹھیکوں کے اجرا سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات زیر تحقیقات ہیں۔
سامنے آنے والی معلومات کے مطابق منصوبے میں 32 ارب روپے تک کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ مختلف ٹھیکوں اور ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی جانچ کے دائرے میں شامل ہے۔
تحقیقات میں بعض ٹھیکیدار اداروں کو قواعد کے مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کی ادائیگی، غیر معمولی پیشگی رقوم اور خریداری کے طریقہ کار میں خلاف ورزیوں کے الزامات شامل ہیں۔
بعض منصوبوں میں زمینی پیش رفت محدود ہونے کے باوجود بھاری رقوم جاری کیے جانے کے الزامات بھی زیر تحقیقات ہیں، جبکہ ادائیگیوں کی منظوری اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
تحقیقات میں تعمیراتی کام کی حقیقی پیش رفت اور ٹھیکیداروں کو جاری کی گئی رقوم کے درمیان فرق کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert