علیمہ خان کو گرفتار کرنا حالات خراب کرنے کا پہلا قدم ہے، بیرسٹر گوہر کا ردعمل

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی لاہور سے تھری ایم پی او کے تحت ممکنہ نظر بندی اور حراست پر تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا شدید ردِعمل سامنے آ گیا، انہوں نے علیمہ خان کی گرفتاری کو حکومت کی جانب سے کشیدگی پھیلانے کا پہلا اقدام قرار دیتے ہوئے ان کی فوری اور بلا مشروط رہائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر خان نے بتایا کہ عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے فون پر علیمہ خان کی حراست کے بارے میں آگاہ کیا، پاکستان تحریکِ انصاف کا 27 ستمبر کا مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ مکمل طور پر پُرامن، آئینی اور سیاسی ہوگا، پی ٹی آئی اپنے آئینی و جمہوریت پسند مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی قسم کا تشدد یا تصادم نہیں چاہتی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے پُرامن ماحول میں علیمہ خان کو گھر کے باہر سے گرفتار کرنا یا ایم پی او کے تحت نظر بند رکھنا ملک میں کشیدگی اور تشدد کو ہوا دینے کے مترادف ہے، حالات کو خراب کرنے کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ علیمہ خان کی حراست حالات کو بگاڑنے کا پہلا اقدام ہے۔
اس موقع پر بیرسٹر گوہر کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ایسے انتقامی اقدامات کا فوری خاتمہ کرے اور علیمہ خان کو فوراً رہا کرے، حکومت کے اس اقدام کے خلاف تحریکِ انصاف جلد ہی اپنا جامع اور حتمی سیاسی لائحہ عمل جاری کرے گی۔
