ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی کے گھر کے باہر پولیس کی بڑی تعداد موجود

لاہور (قدرت روزنامہ) سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے فوراً بعد لاہور میں عمران خان کی دیگر بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی رہائش گاہوں کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اینکرپرسن رائے ثاقب وزیر کھرل نےصورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی رہائش گاہ کے باہر اس وقت بھی پولیس کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، رہائش گاہ کو جانے والی سڑک کے دونوں اطراف سخت ناکہ بندی قائم کر دی گئی ہے جہاں سے گزرنے والی گاڑیوں اور افراد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر عظمی صاحبہ/ نورین نیازی صاحبہ کے گھر کے باہر اس وقت بھی پولیس کی بڑی تعداد موجود ہے۔۔سڑک کے دونوں اطراف ناکے لگے ہیں۔۔اور پولیس بار بار رپورٹرز کو کہتی رہی آپ اب یہاں دے چلے جائیں۔۔پریس کانفرنس ختم ہو چکی۔۔اس سے تاثر یہ ملتا ہے کہ ڈاکٹر عظمی اور نورین صاحبہ کو بھی شاید…
— Rai Saqib Wazir Kharal (@iRaiSaqib) September 20, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ میڈیا نمائندوں کی جانب سے علیمہ خان کے وکلاء اور ہمشیرہ کی پریس کانفرنس کی کوریج کے بعد وہاں موجود پولیس اہلکار بار بار رپورٹرز اور کیمرہ ٹیموں پر دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ اب یہاں سے چلے جائیں کیونکہ پریس کانفرنس ختم ہو چکی ہے۔
اینکر پرسن کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح پولیس نے پورے علاقے کا گھیراؤ کر رکھا ہے اور صحافیوں کو ہٹایا جا رہا ہے، اس سے واضح تاثر ملتا ہے کہ حکومت اور لاہور پولیس کا اگلا ہدف بانی تحریکِ انصاف عمران خان کی دیگر ہمشیرگان ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی ہیں اور انہیں بھی ممکنہ طور پر جلد گرفتار یا نظر بند کیا جا سکتا ہے۔
