ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بجلی بحران سر اٹھانے لگا، قومی شارٹ فال 4500 میگاواٹ کی تشویشناک حد سے متجاوز

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ملک بھر میں توانائی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جس کے باعث بجلی کا مجموعی شارٹ فال 4500 میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے اور شہریوں کو کئی گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
ینگ انجینیئرنگ کونسل کے فوکل پرسن عثمان فاروق کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق قومی گرڈ سے متعدد بڑے پاور ہاؤسز اچانک نکل گئے ہیں جس سے پورے ملک کا ترسیلی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔
تکنیکی اور انتظامی وجوہات کے باعث بند ہونے والے ان پاور پلانٹس کی 16 اکتوبر تک سسٹم میں واپسی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔
یہ بھی پڑھیں:200 یونٹ تک بجلی صارفین کیلئے سبسڈی ختم کرنے کی تجویز زیرِ غور
اس اچانک بندش کے نتیجے میں لیسکو سمیت ملک بھر کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال تیزی سے ابتر ہو رہی ہے۔
ایندھن کا فقدان اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ
بجلی کی پیداوار میں پیدا ہونے والا یہ غیر معمولی خلا محض کسی ایک وجہ سے نہیں ہے۔ گیس کی فراہمی میں تعطل کے بعد اب ڈیزل اور پانی (ہائیڈل) سے ہونے والی جنریشن بھی نمایاں حد تک گر چکی ہے۔
اس پیداواری فرق کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں 3 سے 4 گھنٹے طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس نے نظامِ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
لیسکو کی تشویشناک صورتحال اور کوٹے سے انکار
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ طلب میں اضافے کے باعث صرف لیسکو کا اپنا شارٹ فال 1000 میگاواٹ کی حد پار کر چکا ہے۔
اس وقت شہر کے مختلف علاقوں میں ہر ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
لیسکو چیف کی جانب سے وفاق سے بجلی کا کوٹا بڑھانے کی ہنگامی اپیل کی گئی تھی، تاہم پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے وفاق اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے سے قاصر رہا ہے۔
پاکستان میں توانائی کا بحران کئی دہائیوں پرانا اور ایک دائمی مسئلہ ہے جو موسمِ گرما کی شدت یا ایندھن کی سپلائی چین متاثر ہونے پر فوراً سر اٹھا لیتا ہے۔
گردشی قرضوں کے بھاری بوجھ، ٹرانسمیشن لائنوں کی خستہ حالی اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار نے اس بحران کو ایک مستقل شکل دے دی ہے۔
حکومتی سطح پر متبادل توانائی کے ذرائع پر کام کی سست روی کی وجہ سے ہر سال شہریوں کو اسی نوعیت کے شارٹ فال کا اذیت ناک سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نظام کی خامیاں اور مستقبل کا منظر نامہ
توانائی کے اس تازہ ترین بحران سے یہ تلخ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ملک کا پاور سیکٹر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہے۔
متعدد پاور ہاؤسز کا ایک ساتھ ٹرپ کر جانا یا ایندھن کی کمی کا شکار ہونا محض ایک تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ یہ ناقص منصوبہ بندی اور پیشگی حکمتِ عملی کے فقدان کا واضح نتیجہ ہے۔
ہائیڈل، گیس اور تھرمل، تینوں پیداواری ذرائع کا ایک ہی وقت میں دباؤ میں آ جانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سپلائی چین کا نظام انتہائی کمزور اور غیر مستحکم ہے۔
اگر فوری طور پر ایندھن کی بلاتعطل فراہمی بحال نہ کی گئی اور متبادل پیداواری یونٹس کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک نہ کیا گیا، تو عوام کو آئندہ چند روز تک اس سے بھی زیادہ بدترین اور طویل لوڈشیڈنگ کے عذاب سے گزرنا پڑے گا۔
پاور سیکٹر کا یہ جمود ملکی معیشت کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جس کے تدارک کے لیے محض بیانات کے بجائے ٹھوس ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
