میری اور پورے پارلیمیٹرنیز کی سیکورٹی خیبر پختون خواہ پولیس نے واپس لے لی، شفیع جان
اگر مجھے یا کسی پارلیمیٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی خیبر پختونخواہ ہوں گے، وزیراطلاعات کے پی کا ٹویٹ

پشاور(قدرت روزنامہ)وزیراطلاعات خیبرپختونخواہ شفیع جان کا کہنا ہے کہ میری اور پورے پارلیمیٹرنیز کی سیکورٹی خیبر پختون خواہ پولیس نے واپس لے لی۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ پولیس نے میری اور پورے پارلیمیٹرنیز کی سیکورٹی واپس لے لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یا کسی پارلیمیٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی خیبر پختونخواہ ہوں گے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ پاکستان کے فضاء پر آج بھی راج صرف عمران خان کا ہے۔
میری اور پورے پارلیمیٹرنیز کی سیکورٹی خیبر پختون خواہ پولیس نے واپس لے لی ۔
اگر مجھے یا کسی پارلیمیٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی خیبر پختون خواہ ھونگے ۔— Shafi Jan (@ShafiJanPTI) October 10, 2026
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا خیبرپختونخواہ میں آج ساتنواں روز ہے، مردان کے بعد قافلہ صوابی کی جانب بڑھے گا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے منگا بازار مردان میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مردان میں ہر جگہ دفعہ 804 نافذ ہے، میں سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، ملک بھر سے عوام نے اپنے پارلیمنٹیرینز کی قیادت میں کل صوابی پہنچنا ہے، ہم صوابی میں آپ کا استقبال بھی کریں گے اور خیال بھی رکھیں گے، عمران خان سے محبت کرنے والے ہر حال میں صوابی پہنچیں گے، گاڑی میسر نہ ہوئی تو موٹر سائیکل، وہ بھی نہ ہوئی تو سائکل پر، یہاں تک کہ پیدل بھی پہنچنا پڑا تو پہنچیں گے، اس بار لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہوں گے کہ کسی کو گولی چلانے کی ہمت نہیں ہو گی۔
ہم ظالمانہ ہتھکنڈوں سے پیچھے ہٹنے والے نہیں، ایک کروڑ بزدلوں سے ایک ہزار بہادر بہتر ہوتے ہیں، صوابی میں ہمارا پلان سن کر مخالفین کے ہوش اڑ جائیں گے، ہمارا پرامن احتجاج آگے بڑھے گا، پرامن رہنا ہے، کسی بھی سازش کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیں گے۔ دوسری جانب آئی جی کےپی پولیس آفس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس نے ہنگامہ آرائی اور احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے تحریری آپریشنل ہدایات جاری کر دیں۔
ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث عناصر سے قانون کے مطابق انتہائی سختی سے نمٹا جائے گا۔ کسی بھی ہنگامہ آرائی یا احتجاج کے دوران سرکاری تنصیبات، عمارتوں اور املاک کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عوام کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی اجتماع، پُرتشدد سرگرمی یا اشتعال انگیزی کا حصہ بننے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔
امن و امان میں خلل ڈالنے، سیکورٹی فورسز یا عمارتوں پر حملے کرنے یا شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ شہری پُرامن رہیں، قانون کی پاسداری کریں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں، پولیس اسٹیشنز، سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس، تجارتی مراکز اور اہم شاہراہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
احتجاجی مظاہروں اور کارروائیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی تا کہ بعد میں ضروری قانونی کارروائی میں مدد مل سکے۔ احتجاجی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائی جائے گی۔
