خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور گرفتاریوں کے خلاف وکلاء ایکشن کمیٹی کا شدید احتجاج، علی احمد کرد اور راحب خان بلیدی نے اسے بدترین آمریت قرار دے دیا

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی کے چیئرمین علی احمد کرد اور راحب خان بلیدی نے خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی گورنر راج کی نفاذ اور منتخب وزیر اعلی سہیل آفریدی تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر ممبران پارلیمنٹ کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین آمریت قرار دیا ہے۔
اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا جمہوریت عوام کے سامنے عیاں ہوچکی ہے اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے ایک منتخب وزیر اعلی اس کے ممبران پارلیمنٹ کو گرفتار کرنا صوبے میں غیر آئینی گورنر راج اس بات کی غمازی ہے کہ ملک میں آج بھی ایوب ، یحی خان ، ضیاء الحق اور مشرف سے بد ترین آمریت ہے۔
ظاہری طور پر ملک میں نام نہاد وزیراعظم نام نہاد صدر اور سپریمُ کورٹ موجود ہے لیکن اختیارات آج بھی ایک فوجی ڈکٹیٹر کے پاس ہیں جنُکی وجہ سے آج ملک سیاسی معاشی بحران سے دوچار ہے امن ومان کی مخدوش صورتحال بے تحاشا مہنگائی بے روزگاری اپنے عروج ہے ۔
بظاہر تو عدالتیں اور پارلیمنٹ موجود ہے لیکن سب اختیارات آج بھی ایک فوجی ڈکٹیٹر کے پاس ہیں بیان میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو غیر آئینی اقدامات قرار دیکر اسے مسترد کرتے ہیں اور ان غیر آئینی اقدامات کے خلاف آئندہ کا لائحۂ عمل طے کریں گے۔
