‘اکتوبر کا مہینہ جمہوریت کیلئے اکثر بُری خبریں کیوں لاتا رہا ہے؟’

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا ہے، صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کیے، اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں آج (اتوار کو) وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دی گئی۔
سینئر صحافی و تجزیہ نگار مظہر عباس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ “1958 سے 2026 تک اکتوبر کا مہینہ جمہوریت کے لیے اکثر بُری خبریں کیوں لاتا رہا ہے؟”
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر بار کسی نہ کسی سیاسی جماعت نے ایسے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ 12 اکتوبر 1999 کو جب وزیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو پیپلز پارٹی نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا تھا۔ اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کرنے پر متفق ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ اگر کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہوجائے تو وفاق کے پاس وہاں ایمرجنسی لگانے اورساتھ ہی صوبے کا نظم و نسق گورنر کو سونپنے کا اختیار ہے۔ آئین کا آرٹیکل 232 (1) ایمرجنسی سے متعلق ہے اور آرٹیکل 234 (1) میں گورنر راج کا ذکر ہے، لہذا ان دونوں آرٹیکلز کا اطلاق کیا گیا ہے۔
اینکر پرسن شہزاد اقبال نے اپنی ایکس پوسٹ پر پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کو “سیاسی ایٹم بم” قرار دیتے ہیں، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر آصف علی زرداری گورنر راج نافذ کرنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کر چکے ہیں۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں پیپلزپارٹی کی جانب سے مختلف ادوار میں گورنر راج نافذ کیے جانے کے اقدامات کی تفصیل تحریر کرتے ہوئے لکھا کہ اس تضاد کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
‘تاریخ سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا’
صحافی عثمان خلجی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “پی ایم ایل (ن) اور پیپلز پارٹی نے پاکستان میں آمرانہ طرزِ حکمرانی اور آمریت کی حمایت کرکے جو غیر جمہوری کردار ادا کیا ہے، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید لکھا کہ “عوام کے مینڈیٹ کو پامال کرنے میں دونوں جماعتوں نے بھرپور ساتھ دیا ہے، اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تاریخ سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔”
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کرنا ہماری تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ اس کے تمام ذمہ داروں، بشمول مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے عوام کے خلاف ناقابلِ معافی جرم کیا ہے۔ اس ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کرنا ہمارا فرض ہے!
‘سہیل آفریدی نے عملاً وفاقی حکومت کو قبضے کی دعوت دی’
سینئر صحافی طلعت حسین نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ “سہیل آفریدی اور ان کے ساتھی پی ٹی آئی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے بظاہر پارٹی کا وہ واحد سیاسی پتا بھی ضائع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کی مدد سے پی ٹی آئی، عمران خان کے معاملے پر وفاقی حکومت سے سودے بازی کر سکتی تھی، یعنی صوبے میں اپنی حکومت۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “سہیل آفریدی نے عملاً وفاقی حکومت کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی دعوت دے دی۔ یا تو وہ انتہائی درجے کے نادان ہیں یا پھر ایسے مہرے جو اندر رہ کر اپنی ہی جماعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دونوں صورتوں میں انہوں نے پی ٹی آئی کے لیے حالات انتہائی خراب کر دیے ہیں۔”
‘ایمرجنسی نہیں لگے گی، سہیل آفریدی پُرامید تھے’
نیوز اینکر مہر بخاری نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ “ان کی گزشتہ رات خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بات ہوئی۔ انہیں امید تھی کہ حکمتِ عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جو ایک منتخب اور عوامی مقبولیت رکھنے والی حکومت کے خلاف ہو۔”
انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ “میں نے انہیں بتایا کہ ہمیں اس کے برعکس خبریں مل رہی ہیں، لیکن وہ پُرامید تھے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی معاہدے پر اتفاق کا امکان زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں عمران خان تک رسائی اور انہیں مناسب طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔”
مہر بخاری کا کہنا تھا کہ “انہیں (سہیل آفریدی کو) یقین نہیں تھا کہ ایمرجنسی نافذ کی جائے گی کیونکہ اس کے ردعمل کو سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ واقعی خان سے محبت کرتے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ “انہوں (سہیل آفریدی) نے کہا کہ اگر ایمرجنسی نافذ کی گئی یا گورنر راج لگایا گیا تو چھاؤنیوں یا گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج نہیں ہوگا، بلکہ پشاور میں ایک بہت بڑا مجمع جمع ہوگا اور وہیں دھرنا دے کر بیٹھ جائے گا۔ فی الحال سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔”
