خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ جمہوری اقدار اور آئینی تسلسل کے خلاف ہے، سیاسی مسائل کا حل طاقت یا غیر جمہوری اقدامات میں نہیں: اے این پی

منتخب حکومت کو ختم کر کے گورنر راج نافذ کرنا نہ ماضی میں مسائل کا حل ثابت ہوا اور نہ ہی اب اس سے کوئی مثبت نتائج برآمد ہوں گے


حکومتوں کی کارکردگی کا فیصلہ عوامی رائے اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونا چاہیے، جمہوری نظام میں مینڈیٹ کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے
قیامِ پاکستان کے ابتدائی دور سے ہی غیر جمہوری اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جس سے جمہوری اداروں کو مستحکم ہونے کے مواقع نہیں ملے
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کا بیان؛ سیاسی استحکام کا راستہ جمہوریت کے تسلسل، آئین کی بالادستی اور سیاسی مکالمے سے ہو کر گزرتا ہے
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی بیان میں صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی بھرپور مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ منتخب حکومت کو ختم کرکے گورنر راج نافذ کرنا نہ ماضی میں مسائل کا حل ثابت ہوا ہے اور نہ ہی اب اس سے کوئی مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ حکومتوں کی کارکردگی کا فیصلہ عوامی رائے اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونا چاہیے کیونکہ اگر کوئی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو عوام انتخابات کے ذریعے اس کا احتساب کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ جمہوری نظام میں عوامی مینڈیٹ کا احترام، آئینی بالادستی اور منتخب اداروں کا تسلسل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی کے لیے غیر جمہوری طریقے اختیار کرنے کے بجائے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے اقدامات سیاسی مسائل کو حل کرنے کے بجائے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور سیاسی بے یقینی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اے این پی نے یاد دلایا کہ ملک کو معرضِ وجود میں آئے ابھی ہفتہ نہیں ہوا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں خدائی خدمت گاروں کی دو تہائی اکثریت والی حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ختم کیا گیا تھا۔ اس اقدام کو پشتونخوا میں جمہوری عمل کے خلاف ہونے والی تاریخی ناانصافیوں کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ غیر جمہوری اقدامات کا سلسلہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی دور ہی سے جاری رہا ہے، جس کے باعث جمہوری اداروں کو مستحکم ہونے کے مواقع نہیں مل سکے۔
صوبائی بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک میں جمہوریت کو حقیقی معنوں میں پنپنے نہیں دیا جا رہا اور غیر سیاسی کرداروں کو اختیارات دے کر سیاسی قوتوں اور منتخب نمائندوں کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے طرزِ عمل سے جمہوری اقدار، آئینی نظام اور عوامی مینڈیٹ متاثر ہوتے ہیں جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ جمہوریت کے تسلسل، آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری اور عوامی رائے کے احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ سیاسی مسائل کا حل طاقت کے استعمال یا غیر جمہوری اقدامات میں نہیں، بلکہ سیاسی مکالمے، جمہوری رواداری اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے۔

WhatsApp
Get Alert